لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ہیوسٹن میں’ICE’ایجنٹ کےہاتھوں ڈرائیورکاقتل، گاڑی سےمنشیات ملنےکاایف بی آئی کادعویٰ جھوٹانکلا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ہیوسٹن: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹ کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 52 سالہ میکسیکن تارکِ وطن لورینزو سالگاڈو اراؤجو کی گاڑی سے ملنے والی پراسرار سفید اشیا سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ہیوسٹن (ہیرس کاؤنٹی) کے ڈسٹرکٹ اٹارنی دفتر نے تصدیق کی ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ کے مطابق گاڑی سے ملنے والا سفوف منشیات نہیں تھا، بلکہ وہ ایک عام ہوم میڈ الیکٹرولائٹ پاؤڈر (نمکیات) تھا۔

7 جولائی کو ہونے والے اس سانحے کے بعد ایف بی آئی نے عدالت میں وارنٹ کی درخواست دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مقتول کی گاڑی سے ممکنہ طور پر غیر قانونی منشیات برآمد ہوئی ہیں۔

تاہم، لیب رپورٹ آنے کے بعد سالگاڈو کے خاندان اور وکلا نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے:

سالگاڈو کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ان کے والد کبھی منشیات کے قریب بھی نہیں گئے تھے۔ وہ اینٹوں اور تعمیراتی کام سے وابستہ تھے اور شدید گرمی سے بچنے کے لیے الیکٹرولائٹ پاؤڈر کا استعمال کرتے تھے۔

ٹیکساس سے ڈیموکریٹک نمائندے سلویہ گارسیا نے کہا کہ مقتول کے کردار کو داغدار کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

اس واقعے میں شامل کسی بھی آئی سی ای (ICE) ایجنٹ نے باڈی کیمرہ نہیں پہنا ہوا تھا، جس کی وجہ سے پولیس کارروائی کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔