لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ٹرمپ نے’کمیونزم کےخطرے’کودوبارہ امریکہ کا سب سےبڑادشمن قراردےدیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ‘کمیونسٹ نظریات’ کے مبینہ ابھار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امریکہ کی 70 کی دہائی کی ‘سرد جنگ’ (Cold War) کے دور کے سیاسی بیانیے کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔

ماؤنٹ رش مور میں امریکی آزادی کے 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک خطاب میں ٹرمپ نے کہا”وہ نسل جس نے کمیونزم کی لعنت کے خلاف سرد جنگ لڑی اور جیتی، اس کے بعد آج ہمارے ملک میں کمیونسٹ خطرے کا دوبارہ ابھار ہو رہا ہے۔ ہم کمیونسٹوں کو تیزی سے شکست دیں گے اور انہیں جلاوطن کریں گے۔”

اس بیانیے کو مزید تقویت دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان “کیوبا: 21 ویں صدی کا کمیونسٹ دارالحکومت” ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ ترین حکومتی اداروں، بائیں بازو کی این جی اوز، اور سوشلسٹ گروپس میں غیر ملکی کمیونسٹ نیٹ ورکس نے نفوذ کر لیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ خود سرد جنگ کے دور کی پیداوار ہیں۔ ان کے ابتدائی کیریئر میں ان کے سرپرست (Mentor) روئی کوہن (Roy Cohn) تھے، جو 1950 کی دہائی میں سینٹر جو میکارتھی کی کمیونسٹ مخالف مہم کے اہم وکیل رہے تھے۔

ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے اس سخت بیانیے کی بڑی وجہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ’ (DSA) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے:

نیویارک کے میئر زہران ممدانی جیسے رہنماؤں کی کامیابی نے بائیں بازو کے نظریات کو امریکی سیاست کا بنیادی حصہ بنا دیا ہے۔

حال ہی میں ڈی ایس اے کی تائید یافتہ امیدوار ڈاریالیزا ایویلا چیولیئر (Darializa Avila Chevalier) نے ڈیموکریٹک پرائمری میں سینئر رہنما کو شکست دی، جس کے بعد ان کے پرانے سوشل میڈیا پیجز پر مارکسسٹ اور لینن وادی نظریات کی تعریف کو لے کر تنازع کھڑا ہوا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں اور تاریخ دانوں نے ٹرمپ کے اس بیانیے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (AOC): انہوں نے ٹرمپ کے اس الزام کو “انتہائی احمقانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام سے یہ چھپانے کے لیے کمیونزم کا ڈراوا دیا جا رہا ہے کہ یورپ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں صحت اور سماجی سہولیات امریکہ سے کہیں بہتر ہیں۔

فاشزم کی تاریخ دان روتھ بن غیاث کا کہنا تھا کہ اپنے سیاسی مخالفین پر کمیونسٹ کا لیبل لگانا ایک پرانا سیاسی ڈرامہ (Playbook) ہے تاکہ دائیں بازو کے سخت اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

تاہم، ہارورڈ اور ایموری یونیورسٹی کے کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ نظریات کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے، لیکن ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے اندر واقعی کچھ ایسے انتہا پسند عناصر اور مارکسسٹ گروپس شامل ہو چکے ہیں جو آئندہ امریکی سیاست میں بڑے نظریاتی ٹکراؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔