ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے مشرقِ وسطیٰ، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں جاری پرُتشدد کارروائیوں میں تشویشناک اضافے اور شہری جانی نقصان پر اپنے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ہفتہ وار دعائیہ خطاب کے دوران مسیحی روحانی پیشوا نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں روک کر سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔
پوپ لیو چہاردہم نے خطے میں قیامِ امن کے لیے واضح موقف اپناتے ہوئے کہا:
“غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی جانیں جانے پر شدید تشویش ہے۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ مقدس مقامات کی حیثیت اور احترام کی خلاف ورزی کرنے والے فوجی اقدامات کو مسترد کریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا ایک ایسا منصفانہ سیاسی حل نکالا جانا انتہائی ضروری ہے جس میں تمام انسانوں کو مساوی حقوق، تحفظ اور احترام حاصل ہو۔
اپنے پیغام میں انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی تنازعات کے حل کے لیے گولی اور بارود کا راستہ چھوڑ کر مذاکرات اور سفارت کاری کے بند دروازوں کو دوبارہ کھولیں تاکہ خطے کو مزید تباہی اور انسانی المیے سے بچایا جا سکے۔





