لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

کلائمیٹ چینج اورسمندری طوفانوں کےبڑھتے خطرات،’بیوروآف کوسٹل ریزیلیئنس’میں بڑی توسیع کااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک شہر انتظامیہ اور ڈیپارٹمنٹ آف انوائرنمنٹل پروٹیکشن (DEP) کی کمشنر لیزا ایف گارسیا نے سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے باعث آنے والے شدید سمندری طوفانوں سے شہر کو محفوظ بنانے کے لیے بیورو آف کوسٹل ریزیلیئنس (Bureau of Coastal Resilience) کی بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کیا ہے۔

شہر کی انتظامیہ نے مالیاتی پلان کے تحت 43.2 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی ہے، جس میں سے جاری مالی سال کے دوران 10.6 ملین ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔ اس رقم سے بیورو میں 69 نئے ماہرین، انجینئرز، سٹی پلانرز اور فیلڈ عملے کا تعنیات کیا جائے گا، جو شہر کے 520 میل طویل ساحلی خطے کی حفاظت کے لیے حکمت عملی تیار کریں گے۔

سٹی انتظامیہ کے مطابق جیسے جیسے کلائمیٹ چینج کے اثرات تیز ہو رہے ہیں، ساحلی علاقوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہماری کوششیں بھی تیز ہونی چاہئیں۔ یہ سرمایہ کاری آنے والے سالوں میں تیار ہونے والے اربوں ڈالرز کے فلڈ پروٹیکشن انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور درست آپریشن کو یقینی بنائے گی۔

ڈی ای پی (DEP) کی کمشنر لیزا ایف گارسیا کا کہنا تھا کہ نیویارک کے ساحلوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانا ترجیح ہے تاکہ شہریوں،
کاروباری مراکزی اور اہم تنصیبات کو طوفانوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

1.ایسٹ سائیڈ کوسٹل ریزیلیئنس (ESCR)
پارکوں کی اونچائی بڑھانے، فلڈ والز اور 18 فلڈ گیٹس کی تنصیب کا سب سے بڑا پروجیکٹ، جو اگلے سال فعال ہو کر لوئر ایسٹ سائیڈ کے 1,10,000 سے زائد رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔

2.بیٹری کوسٹل ریزیلیئنس
:$200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری.لوئر مین ہیٹن کو طوفانی لہروں اور سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم فیز کی تکمیل۔

3.دیگر ساحلی منصوبے:
برکلن برج-مونٹگمری، سی پورٹ اور ریڈ ہک کوسٹل ریزیلیئنس جیسے بڑے منصوبے اگلے چار سالوں میں فعال کیے جائیں گے۔

2012 میں آنے والے ہولناک طوفان سپر اسٹارم سینڈی (Hurricane Sandy) نے نیویارک میں 44 جانی نقصان کے علاوہ تقریباً 19 ارب ڈالرز کا مالی نقصان کیا تھا۔

اس وقت نیویارک سٹی کے فلڈ پلین (Floodplain) والے علاقوں میں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد شہری، 14,500 کاروبار اور تقریباً 250 ارب ڈالر مالیت کی املاک موجود ہیں، جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے یہ ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔