نیویارک (ویب ڈیسک) – نیویارک سٹی کے میئر زوہران مامدانی نے شہر کی بدنامِ زمانہ “رائکرز آئی لینڈ” جیل کی بندش کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میئر آفس کی جانب سے جاری کردہ جاب لسٹنگ کے مطابق، نئے عہدے کو ’بورو بیسڈ جیلز زار‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کی سالانہ تنخواہ 180,000 سے 230,000 ڈالر ہوگی۔ منتخب عہدے دار رائکرز آئی لینڈ کی بندش سے متعلق تمام امور پر انتظامیہ کو مشاورت فراہم کرے گا اور امیدوار کے پاس متعلقہ شعبے میں 10 سال سے زائد تجربہ ہونا لازمی ہے۔
میئر مامدانی نے اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں ہی رائکرز کی بندش کو ترجیح دی اور ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ انہوں نے سابق قیدی سٹینلے رچرڈز کو محکمہ اصلاحات (Department of Corrections) کا کمشنر مقرر کر کے سب کو حیران کر دیا۔
میئر نے کہا: “سابقہ انتظامیہ کی جانب سے قانونی ذمہ داریوں کی غیر تکمیل نے حالات بگڑنے کا سبب بنایا، لیکن ہم رائکرز کی بندش کے قانونی وعدے کو ہر صورت پورا کریں گے۔”
2019 میں منظور شدہ قانون کے مطابق، رائکرز آئی لینڈ کمپلیکس کو 2027 تک مکمل بند کر کے اس کی جگہ مین ہٹن، بروکلین، کوئینز اور برونکس میں چار چھوٹی جیلیں تعمیر کی جائیں گی۔ تاہم، یہ منصوبہ اپنے مقررہ شیڈول سے پیچھے ہے۔
فی الحال وفاقی حکام جیلوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، اور ایک وفاقی جج نے سابق سی آئی اے اہلکار نکولس ڈیمپل کو ریمیڈیشن مینیجر مقرر کیا ہے تاکہ ضروری اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔ میئر مامدانی نے محکمہ قانون کو وفاقی مانیٹر کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔





