لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکا نےسائبرجرائم اورفراڈمیں ملوث افرادکیلئےنئی عالمی ویزاپابندی پالیسی کااعلان کردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکا نے ایک نئی عالمی ویزا پابندی پالیسی (Global Visa Restriction Policy) کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مخصوص افراد اور ان کے قریبی اہل خانہ کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے پالیسی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ (Donald Trump Administration) کی جانب سے امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے سائبر جرائم (Cybercrime)، مالیاتی دھوکہ دہی اور آن لائن استحصالی اسکیموں کے خلاف جاری وسیع مہم کا حصہ ہے۔

کون سے جرائم ویزا پابندی کی زد میں آئیں گے؟
امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، نئی ویزا پالیسی کے تحت درج ذیل سرگرمیوں میں ملوث افراد اور ان کے خاندان پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں گی:

آن لائن سرمایہ کاری فراڈ (Online Investment Fraud)
سیکسٹورشن (Sextortion / نجی مواد کی بنیاد پر بلیک میلنگ)
سائبر اور ڈیجیٹل اسکیمیں (Cyber Extortion Schemes)

وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اپنے ایگزیکٹو آرڈر (Executive Order) کے ذریعے واضح کر چکے ہیں کہ امریکی حکومت آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ جیسے “بے مثال خطرات” کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔

چینی مجرمانہ تنظیموں پر الزامات
امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ میں چینی بین الملکی مجرمانہ تنظیمیں (Chinese Transnational Criminal Organizations) براہ راست ملوث ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تنظیموں نے صرف سال 2024 میں امریکی شہریوں کو کم از کم 10 ارب ڈالر کا بھاری نقصان پہنچایا۔ مزید برآں، ان جرائم کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے عالمی سطح پر بدعنوانی، منی لانڈرنگ (Money Laundering)، اور انسانی اسمگلنگ (Human Trafficking) جیسے سنگین مسائل کو فروغ مل رہا ہے۔