واشنگٹن: امریکی انتظامیہ میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے پر شدید خدشات سامنے آئے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین (General Dan Caine) نے ایران کے خلاف جنگ کو طول دینے یا اسے پھیلانے کے تباہ کن نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، یہ خدشات ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران سامنے آئے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید شدید عسکری آپشنز پر غور کر رہے تھے۔
جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ طویل جنگ کے امریکی اسلحے کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی فوج صدر کے احکامات کی تعمیل کے لیے مکمل تیار ہے، تاہم ہر عسکری آپشن کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید بمباری کے بعد امریکا نے ایران پر فی الحال حملے روک دیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ وقفہ عارضی ہے یا مستقل۔
ذرائع کے مطابق، جہاں صدر ٹرمپ نے علانیہ طور پر سخت کارروائی کے اشارے دیے ہیں، وہیں نجی طور پر اپنے مذاکرات کاروں کو ایران سے سفارتی رابطے بحال رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پینٹاگون اور صدر کے قریبی مشیروں کو شبہ ہے کہ جنگ میں شدت لانے سے واشنگٹن اپنے مطلوبہ سیاسی و عسکری ہدف حاصل کر سکے گا۔ سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں اس وقت فوجی دباؤ اور سفارتی حل کے درمیان شدید کھینچ تان جاری ہے۔





