نیویارک : نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے خلاف استعمال کیے گئے ایک انتہائی توہین آمیز اور نسل پرستانہ لفظ (cockroach) پر غیر معمولی تحمل اور وقار کے ساتھ جواب دے کر سوشل میڈیا پر عوامی دل جیت لیے ہیں۔
میئر ممدانی نے نہایت سکون اور خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا: “مجھے اپنی پہچان، اپنے عقیدے اور اس حقیقت پر کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ میں اس شہر کی تاریخ کا پہلا مسلمان میئر ہوں۔ کوئی بھی نسل پرستانہ حملہ میری قیادت کے انداز کو تبدیل نہیں کر سکتا۔”
سوشل میڈیا پر میئر کے اس اندازِ بیاں کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ممدانی نے غصے یا جوابی حملے کے بجائے اپنی توجہ شناخت، قیادت اور عوامی ذمہ داری پر مرکوز رکھی، جو ایک عظیم لیڈر کی نشانی ہے۔ اس ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد بحث کا رخ نسل پرستانہ حملے سے ہٹ کر میئر کی پراعتماد شخصیت اور اخلاقی برتری کی طرف مڑ گیا ہے۔
واضح رہے پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے میئر سے سوال کیا کہ وہ اپنے خلاف استعمال ہونے والے اس غیر انسانی جملے پر کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس سوال نے سیاسی میدان میں عوامی شخصیات کو درپیش بدزبانی اور نفرت انگیز مہم کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔
