ٹورنٹو (رائٹرز) – کینیڈا کی حکومت نے بدھ کے روز امیگریشن کے نئے ترجیحی زمروں (Priority Categories) کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ریسرچ، ہیلتھ کیئر، ہوا بازی (Aviation) اور دفاعی شعبوں میں دنیا بھر سے ماہرین کو ملک میں لانا ہے۔
یہ نئی تبدیلیاں وزیراعظم مارک کارنی کے اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت کینیڈا میں مستقل رہائشیوں (Permanent Residents) کی مجموعی تعداد کو کم کیا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی مخصوص شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالرز اور ہنرمند ورکرز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا ایک بڑا مقصد کینیڈا کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ امریکہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔
امیگریشن وزیر لینا میٹلیج دیاب کے مطابق، 2026 میں ایکسپریس انٹری سسٹم میں کی جانے والی یہ تبدیلیاں کینیڈا کو ان شعبوں میں افرادی قوت فراہم کریں گی جہاں شدید قلت کا سامنا ہے۔ نئے زمروں میں درج ذیل شامل ہیں:
محققین اور سینیئر مینیجرز۔
پائلٹس اور ایئر کرافٹ مکینکس۔
کینیڈین تجربہ رکھنے والے غیر ملکی ڈاکٹرز۔
کینیڈین مسلح افواج کے لیے ماہر غیر ملکی ڈاکٹرز، نرسیں اور پائلٹس۔
دفاعی خود انحصاری اور معیشت
وزیراعظم کارنی نے ایک نئی دفاعی حکمت عملی کا اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت اگلے دس سالوں میں دفاعی تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری میں 85 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ کینیڈا نے نیٹو (NATO) کے رکن کے طور پر 2035 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانے کا عہد بھی کر رکھا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ہاؤسنگ اور سماجی خدمات پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے اور امیگریشن کو پائیدار سطح پر لانے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، پہلے سے موجود کیٹیگریز جیسے کہ فرانسیسی زبان کے ماہرین اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے قرعہ اندازی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
