Bangladesh elections: BNP leads, Jamaat-e-Islami second in early results.

حسینہ واجد کےبعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے ملک میں انتخابات کا وعدہ پورا کر دیا ہے

Editor News

ڈھاکہ: بنگلادیش میں حسینہ واجد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کو واضح سبقت حاصل ہے۔

طلبا تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے ملک میں انتخابات کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ یہ انتخابات مجموعی طور پر شفاف اور پرامن رہے، اور اب تک کسی بھی حلقے سے دھاندلی کی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ سابقہ حکمران جماعت ‘عوامی لیگ’ پابندی کے باعث ان انتخابات کا حصہ نہیں تھی۔

اب تک کے موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق:
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP): مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت، جس کی قیادت اب ان کے صاحبزادے طارق رحمان کر رہے ہیں، 50 نشستوں پر برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

جماعتِ اسلامی: 18 نشستوں پر سبقت کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

آزاد امیدواروں اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی پوزیشن فی الحال واضح ہونا باقی ہے۔

بنگلادیشی پارلیمان کی کل 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے ایک پر الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا، لہٰذا 299 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ سادہ اکثریت اور حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 151 نشستیں درکار ہوں گی۔

ملک بھر میں گنتی کا عمل جاری ہے اور حتمی نتائج آنے پر ہی واضح ہوگا کہ بنگلادیش کی باگ ڈور اگلے پانچ سال کے لیے کس کے ہاتھ میں ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *