اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان جمعہ کو ایک روزہ سرکاری دورے پر وفاقی دارالحکومت پہنچے، جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ صدر بننے کے بعد یہ ان کا پاکستان کا پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے۔
صدر کے طیارے کے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی جے ایف-17 (JF-17) لڑاکا طیاروں کے دستے نے انہیں حصار میں لے کر اسکورٹ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔صدر کو مسلح افواج کے دستے کی جانب سے 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شیخ محمد بن زاید کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا:
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی (IT)، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاقائی استحکام مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پہلے ہی ثقافت، قونصلر امور اور مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کے حوالے سے متعدد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہو چکے ہیں۔
اس اہم دورے کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے جمعہ (26 دسمبر) کو اسلام آباد میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا تھا، تاہم اسپتال، پولیس اور سی ڈی اے جیسی ضروری خدمات معمول کے مطابق کام کرتی رہیں۔
متحدہ عرب امارات پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار اور ترسیلاتِ زر کا اہم ذریعہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی یو اے ای کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ یو اے ای نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مالی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ہے۔
