سڈنی میں نئے سال کا استقبال امن اور یکجہتی کے پیغام کے ساتھ کیا گیا

بیلجیئم سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاح نے بی بی سی کو بتایا کہ "ہم خوف کے سائے میں نہیں جی سکتے

Editor News

سڈنی (ویب ڈیسک) :سڈنی میں نئے سال کا استقبال امن اور یکجہتی کے پیغام کے ساتھ کیا گیا، جہاں بانڈائی بیچ (Bondi Beach) پر ہونے والے فائرنگ کے ہولناک واقعے کے بعد لاکھوں افراد شہر کے سالانہ آتش بازی کے شاندار منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔

امن کا پیغام اور سخت سیکیورٹی سڈنی ہاربر برج پر ‘امن’ اور ‘اتحاد’ کے الفاظ روشن کیے گئے، جبکہ شہر کی سڑکوں پر ہزاروں مسلح پولیس اہلکار گشت کرتے نظر آئے۔نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق، پورے شہر میں 2,500 سے زائد افسران تعینات تھے، جن میں سے کچھ کو جدید ترین ہتھیار رکھنے کیخ.صوصی اجازت دی گئی تھی۔

حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت یہ سخت حفاظتی انتظامات 14 دسمبر کو ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں کیے گئے تھے جس میں یہودی برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ہنوکا (Hanukkah) تہوار کے دوران 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کے متاثرین کی یاد میں رات 11 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ ہاربر برج کو سفید روشنی سے منور کر کے امن کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا اور یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برج کے ستونوں پر ‘مینورہ’ (مقدس شمعدان) کی تصویر نمایاں کی گئی۔

حکومتی موقف اور عوامی ردِعمل نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے پہلے ہی عوام کو خبردار کر دیا تھا کہ پولیس کے پاس ایسے ہتھیار دیکھ کر لوگ گھبرا سکتے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے سامنے جھکنے کے بجائے ہمت دکھائیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزاریں۔

برطانوی سیاحوں اور مقامی لوگوں نے سیکیورٹی کے ان سخت انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بیلجیئم سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاح نے بی بی سی کو بتایا کہ “ہم خوف کے سائے میں نہیں جی سکتے۔”

جشن کا آغاز شام ہوتے ہی سڈنی ہاربر کے تمام تماشائی مقامات لوگوں سے بھر گئے۔ سمندر میں موجود کشتیوں اور ساحل پر موجود لاکھوں افراد نے مل کر نئے سال کا استقبال کیا۔ سڈنی کی اس مشہور آتش بازی نے دنیا بھر میں، دبئی سے لے کر لندن اور نیویارک تک، جشنِ نو کے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *