اسلام آباد/واشنگٹن: بلوچستان میں تانبے اور سونے کے عظیم الشان ذخائر کے منصوبے ‘ریکو ڈک’ (Reko Diq) کے لیے امریکہ نے 1.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم اس منصوبے کی ترقی کے لیے درکار مجموعی سرمائے کا ایک بڑا حصہ ہے۔
یہ فنڈنگ امریکی ‘ایکسپورٹ امپورٹ بینک’ (EXIM Bank) کے ‘کریٹیکل منرلز فنانسنگ فریم ورک’ کے تحت منظور کی گئی ہے۔ یہ عالمی سپلائی چین کے لیے ضروری معدنیات کی نکاسی اور پروسیسنگ کو سپورٹ کرنے کا ایک پروگرام ہے۔
ریکو ڈک کے لیے یہ رقم ‘پروجیکٹ والٹ’ کا حصہ ہے، جو کہ 10 ارب ڈالر کا ایک وسیع پروگرام ہے جس کا مقصد اہم معدنیات کے تزویراتی ذخائر قائم کرنا اور عالمی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے۔
ریکو ڈک منصوبہ پاکستان اور ایک کینیڈین مائننگ کمپنی (بیرک گولڈ) کی شراکت داری سے تیار کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کی کل سرمایہ کاری کا تخمینہ تقریباً 3.2 ارب ڈالر ہے۔
سائٹ پر تعمیراتی کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
منصوبے سے باقاعدہ تجارتی پیداوار کا آغاز 2028 میں متوقع ہے۔
ایکسٹ امپورٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اہم معدنیات کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران بینک نے عالمی سطح پر 14.8 ارب ڈالر کے دلچسپی کے خطوط (Letters of Interest) جاری کیے ہیں، جن میں آسٹریلیا میں کوبالٹ اور نکل، برطانیہ میں ٹن، اور امریکہ کے اندر لیتھیم اور زنک کی کان کنی شامل ہے۔
