Gov. Hochul Proposes 75% Tax on Nicotine Pouches in FY2027 Budget

گورنر آفس کے مطابق، اس ٹیکس کا مقصد نوجوانوں میں نکوٹین کے استعمال کو روکنا اور ریاست کے ہیلتھ کیئر فنڈز میں اضافہ کرنا ہے۔

Editor News

نیویارک: گورنر ہوچل نے مالی سال 2027 کے ایگزیکٹو بجٹ میں تمباکو کی مصنوعات کی تعریف کو وسعت دیتے ہوئے اس میں نکوٹین کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں مقبول نکوٹین پاؤچز جیسے Zyn، Velo، اور On! پر 75 فیصد ہول سیل ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔

گورنر آفس کے مطابق، اس ٹیکس کا مقصد نوجوانوں میں نکوٹین کے استعمال کو روکنا اور ریاست کے ہیلتھ کیئر فنڈز میں اضافہ کرنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک بالغ شخص تمباکو کا عادی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

سویڈش میچ (فلپ مورس انٹرنیشنل کی ذیلی کمپنی) کے ڈائریکٹر ریگولیٹری سائنس، ڈاکٹر برائن ایرکیلا نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:اتنا زیادہ ٹیکس نکوٹین پاؤچز کی قیمت کو سگریٹ کے برابر لے آئے گا۔

ریاست ہر سال سگریٹ نوشی سے متعلقہ بیماریوں پر 12 بلین ڈالر خرچ کرتی ہے، جس میں سے 7 بلین ڈالر ‘میڈیکیڈ’ (Medicaid) کے ذریعے جاتے ہیں۔

کم آمدنی والے نیویارکرز تمباکو کے استعمال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور پاؤچز ان کے لیے سگریٹ چھوڑنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ایف ڈی اے کے سینٹر فار ٹوبیکو کے ڈاکٹر میتھیو فاریلی نے گزشتہ سال ZYN پاؤچز کی مارکیٹنگ کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مصنوعات ان بالغوں کے لیے فائدہ مند ہیں جو سگریٹ نوشی چھوڑ کر مکمل طور پر ان پاؤچز پر منتقل ہونا چاہتے ہیں۔

فیکل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر معاشیات ڈاکٹر ایملی آئزنر کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ٹیکس جمع کرنے کے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں جنہیں ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ:

“سروسز کے شعبے جیسے کہ ہیئر سیلون، نیل سیلون، اور وکلاء کی خدمات پر فی الحال ٹیکس نہیں ہے، جو کہ آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔”

جہاں حکومت اسے عوامی صحت کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، وہیں ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *