نیویارک(ویب ڈیسک):ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں مجوزہ یونیورسل چائلڈ کیئر پروگرام کی مالی معاونت کے لیے صرف کارپوریشنز اور امیر طبقے پر ٹیکس بڑھانا کافی نہیں ہوگا، بلکہ عام محنت کش طبقے کو بھی زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ رپورٹ لبرل تھنک ٹینک فِسکل پالیسی انسٹی ٹیوٹ (FPI) نے جاری کی ہے، جس کے مطابق ریاست بھر میں یونیورسل چائلڈ کیئر پروگرام پر سالانہ تقریباً 8 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جسے پورا کرنے کے لیے تنخواہ دار ملازمین پر بھی پے رول ٹیکس عائد کرنا ناگزیر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:”یہ نہ تو معاشی طور پر اور نہ ہی مالیاتی طور پر حقیقت پسندانہ ہے کہ پورے ریاستی چائلڈ کیئر پروگرام کی لاگت صرف امیر ترین نیویارکرز سے وصول کی جائے۔”
نو منتخب میئر زوہران ممدانی، جو یکم جنوری کی نصف شب کے فوراً بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، نے اعلان کیا ہے کہ بچوں کے لیے مفت یا بغیر لاگت چائلڈ کیئر ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگی۔ ان کا منصوبہ 6 ہفتے سے 5 سال تک کے بچوں کے لیے مفت سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران دیگر بڑے وعدے بھی کیے ہیں، جن میں شہر کے زیر انتظام گروسری اسٹورز، مفت بس سروس اور کرایوں کو منجمد کرنا شامل ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 10 ارب ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
ٹیکس تجاویز
ممدانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 6 ارب ڈالر کے چائلڈ کیئر پروگرام کے اخراجات کارپوریشنز اور آمدنی کے لحاظ سے ٹاپ 1 فیصد افراد پر ٹیکس بڑھا کر پورے کریں گے، جس سے اندازاً 9 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔
تاہم، فِسکل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ رقم ناکافی ہے۔ ادارے نے تجویز دی ہے کہ سالانہ 25 ہزار ڈالر سے زائد آمدن رکھنے والے ملازمین پر 0.43 فیصد پے رول ٹیکس عائد کیا جائے اس سے 3.6 ارب ڈالر جمع ہو سکتے ہیں۔
کارپوریشن ٹیکس میں 25 فیصد اضافی سرچارج سے 2.2 ارب ڈالر
نیویارک سٹی میں 10 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن پر 1 فیصد انکم ٹیکس اضافہ سے 1.5 ارب ڈالر
سرمایہ کاری پر 0.43 فیصد ٹیکس سے 700 ملین ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں
یہ منصوبہ اس پے رول موبیلیٹی ٹیکس پر مبنی ہے جو گزشتہ برس گورنر کیتھی ہوکل اور ریاستی اسمبلی نے میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (MTA) کی مالی مدد کے لیے منظور کیا تھا۔
