امریکی ‘بارڈر زار’ ٹام ہومن کا منی سوٹا میں آپریشنز کی تبدیلی کا اشارہ

ٹام ہومن نے کہا کہ انتظامیہ صرف ان افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو "عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ" ہیں،

Editor News

منی پولس(ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بارڈر زار’ ٹام ہومن نے ریاست منی سوٹا میں امیگریشن انفورسمنٹ آپریشنز کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں، ہومن نے مقامی حکام کے ساتھ تعاون بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ تعاون کرے تو وفاقی ایجنٹوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ٹام ہومن نے کہا کہ انتظامیہ صرف ان افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو “عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ” ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بغیر دستاویزات کے ملک میں موجود کوئی بھی شخص کارروائی سے باہر نہیں ہے۔

ہومن نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار سابق صدر بائیڈن کی پالیسیوں اور مقامی حکام کے عدم تعاون کو قرار دیتے ہوئے کہا، “میں یہاں اس وقت تک ہوں جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔”

مقامی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ‘آپریشن میٹرو سرج’ کے دوران کئی ایسے افسران کو بھی روک کر کاغذات طلب کیے گئے جو ڈیوٹی پر نہیں تھے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ روکے جانے والے تمام افراد “رنگ دار نسل” (People of Color) سے تعلق رکھتے تھے۔

ایلکس پریٹی اور رینی نیکول گڈ کی ہلاکتوں کے بعد مقامی حکام آزادانہ ریاستی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے فی الحال ٹرمپ انتظامیہ نے روک رکھا ہے۔

پریٹی کی ہلاکت میں ملوث دو بارڈر پٹرول افسران کو فی الحال انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

“میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی مارا جائے—نہ ہمارے افسران، نہ کمیونٹی کے ارکان اور نہ ہی وہ لوگ جو ہمارے نشانے پر ہیں۔ ہم پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کریں گے، اور جو افسر معیار پر پورا نہیں اترے گا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔”

اس بیان کے باوجود واشنگٹن میں سیاسی درجہ حرارت بدستور بلند ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے دھمکی دی ہے کہ جب تک امیگریشن ایجنٹوں کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے قانونی تحفظات (Safeguards) شامل نہیں کیے جاتے، وہ فنڈنگ بل پاس نہیں کریں گے، جس سے حکومتی شٹ ڈاؤن کا خطرہ برقرار ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *