ٹرمپ کا ایک بار پھر نوبل امن انعام پر دعویٰ: پاک بھارت جنگ رکوانے کا تذکرہ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی مدت کے دوران مجموعی طور پر 8 بڑی جنگیں ختم کروائیں، جن میں سے کچھ 30 سال سے زائد عرصے سے جاری تھیں

Editor News

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک بار پھر نوبل امن انعام کے لیے اپنی اہلیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو رکوانے میں ان کا کردار تاریخی تھا۔

وائٹ ہاؤس میں تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی مدت کے دوران مجموعی طور پر 8 بڑی جنگیں ختم کروائیں، جن میں سے کچھ 30 سال سے زائد عرصے سے جاری تھیں۔

صدر ٹرمپ نے مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہونے ہی والی تھی، فضا میں 8 طیارے گرائے جا چکے تھے، لیکن میں نے بغیر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے، بہت تیزی سے جنگ بندی کروا دی۔”

یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے گرائے گئے طیاروں کی تعداد پہلے 5، پھر 7 اور اب 8 بتائی ہے۔ بھارت ان کے اس دعوے کی تردید کرتا رہا ہے کہ جنگ بندی امریکی مداخلت یا تجارتی دھمکیوں کے نتیجے میں ہوئی۔

ٹرمپ نے ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوا کر کم از کم ایک کروڑ (10 ملین) جانیں بچائیں۔

صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں “انتہائی قابلِ احترام جنرل” اور اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے پاکستان کی جانب سے جنگ روکنے میں انتہائی بااثر کردار ادا کیا۔

ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو کی جانب سے اپنا نوبل انعام ٹرمپ کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “ناروے (نوبل کمیٹی) اس وقت شرمندہ ہے کیونکہ میں نے کئی جنگیں رکوائیں لیکن مجھے انعام نہیں دیا گیا۔”

انہوں نے سابق صدر باراک اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
“اوباما کو نوبل انعام ملا لیکن انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ کیوں ملا۔ ہر وہ شخص جو جنگ رکوائے، اسے نوبل انعام ملنا چاہیے، لیکن مجھے انعام سے زیادہ انسانی جانیں بچانے کی فکر ہے۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *