واشنگٹن/نیویارک: امریکہ کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طاقتور برفانی طوفان اور نقطہ انجماد سے گرے ہوئے درجہ حرارت نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق منگل تک مختلف حادثات اور شدید سردی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔
نیویارک سٹی میں سردی کا آٹھ سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جہاں درجہ حرارت 8 ڈگری فارن ہائیٹ (منفی 13 ڈگری سیلسیئس) تک گر گیا۔ میئر زوہران ممدانی نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں اب تک 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
میئر ممدانی نے واضح کیا کہ “شدید موسم کسی کی ذاتی ناکامی نہیں ہے،” اور انتظامیہ کا تمام تر فوکس بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے پر ہے۔
شہر کی انتظامیہ نے بے گھر افراد کی سالانہ گنتی کا عمل بھی موخر کر دیا ہے تاکہ امدادی کارکن ڈیٹا جمع کرنے کے بجائے لوگوں کی جانیں بچانے پر توجہ دے سکیں۔
ریاست ٹینیسی کے شہر نیش وِل میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد گھر اور کاروباری مراکز بجلی سے محروم ہیں۔ میئر فریڈی او کونل نے اسے ایک “تاریخی برفانی طوفان” قرار دیا ہے۔ یہاں بے گھر افراد کی پناہ گاہوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں، اور ریسکیو مشنز کے مطابق روزانہ ہزاروں افراد کو خوراک اور چھت فراہم کی جا رہی ہے۔
پورے ملک میں اموات کی وجوہات مختلف رہی ہیں:
بونہم میں تین بچے جھیل میں جمی برف گرنے سے ہلاک ہوئے، جبکہ آسٹن میں ایک شخص گیس اسٹیشن پر پناہ لینے کی کوشش کے دوران سردی لگنے (Hypothermia) سے جان کی بازی ہار گیا۔
کینساس، کینٹکی، لوزیانا، مسیسیپی، ساؤتھ کیرولائنا اور مشی گن سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کچھ افراد برف ہٹانے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے بھی انتقال کر گئے۔
نیشنل ویدر سروس کے مطابق تقریباً 20 کروڑ امریکی یکم فروری تک سردی کی وارننگ کے زیرِ اثر رہیں گے۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں ایک اور برفانی طوفان مشرقی امریکہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
