واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی واپسی کے پہلے سال کے دوران صدارتی طاقت میں بے پناہ اضافے اور امریکہ کے عالمی تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی جارحانہ پالیسی اپنائی۔ تاہم، ماہرین اور مورخین کا کہنا ہے کہ اس ‘شاک اینڈ آو’ (Shock-and-Awe) پالیسی کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
نئے سال کے آغاز اور وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے قریب آتے ہی، ریپبلکن پارٹی پر ان کی کبھی نہ ختم ہونے والی گرفت اب کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
جنوری 2025 میں دوسری مدت کے لیے اقتدار سنبھالنے کے بعد، ٹرمپ نے معیشت، وفاقی بیوروکریسی، امیگریشن اور امریکی ثقافتی ڈھانچے کو بدلنے کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے اس ایجنڈے پر تیزی سے عمل کرتے ہوئے وفاقی ملازمین کی تعداد میں کٹوتی کی، سرکاری اداروں کو بند کیا، اور ڈیموکریٹک شہروں میں نیشنل گارڈز بھیجے۔ مورخ ٹموتھی نافٹالی کے مطابق:”ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 11 ماہ کے دوران فرینکلن روزویلٹ کے بعد کسی بھی صدر کے مقابلے میں سب سے زیادہ بے لگام طاقت کا استعمال کیا ہے۔”
گرتی ہوئی مقبولیت اور معاشی دباؤ: رائٹرز/ایپسوس (Reuters/Ipsos) کے حالیہ سروے کے مطابق، صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 39 فیصد رہ گئی ہے۔
ریپبلکن ووٹرز میں بھی مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش ڈیسائی کا کہنا ہے کہ افراطِ زر میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، لیکن ووٹرز اب بھی بلند قیمتوں سے نالاں ہیں۔
ٹرمپ نے بیشتر ممالک سے آنے والی اشیاء پر ٹیرف لگا کر تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ یوکرین جنگ کو پہلے دن ختم کرنے کے وعدے کے باوجود تاحال کوئی بڑا امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔
بڑے پیمانے پر چھاپوں اور ملک بدریوں (Deportations) کے احکامات جاری کیے گئے۔سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت اور وفاداروں سے بھری کابینہ نے ٹرمپ کو فیصلے کرنے میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات ریپبلکن پارٹی کے لیے کڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، تو صدر ٹرمپ کو تیسری بار مواخذے (Impeachment) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ ووٹرز کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہے کہ وہ ان کی معاشی مشکلات کا حل جانتے ہیں، تو ان کی اپنی پارٹی کے قانون ساز بھی ان سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیں گے۔
