کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): دنیا کی دو بڑی حریف ٹیکنالوجی کمپنیوں، ایپل (Apple) اور گوگل (Google) نے پیر کے روز ایک کثیر سالہ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایپل کی اگلی نسل کے مصنوعی ذہانت (AI) فیچرز اور اس کا ڈیجیٹل اسسٹنٹ ‘سری’ (Siri)، اب گوگل کی جدید ترین ٹیکنالوجی ‘جیمنی’ (Gemini) سے لیس ہوں گے۔
یہ شراکت داری ایپل کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ ایپل روایتی طور پر اپنی بنیادی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایپل نے “محتاط جائزے” کے بعد گوگل کی ٹیکنالوجی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ایپل کے AI مقاصد کے لیے “سب سے زیادہ قابل اور مضبوط بنیاد” فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ آئی فون (iOS) اور اینڈرائیڈ (Android) کے شعبے میں دونوں کمپنیاں سخت حریف ہیں، لیکن وہ برسوں سے سرچ انجن کے شعبے میں تعاون کر رہی ہیں۔ گوگل ہر سال ایپل کو اربوں ڈالر ادا کرتا ہے تاکہ آئی فونز پر گوگل کو ڈیفالٹ سرچ انجن رکھا جا سکے۔
ایپل کی حکمتِ عملی: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ گوگل کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ ایپل کے لیے یہ اپنی AI حکمتِ عملی کو 2026 اور اس سے آگے کے دور کے لیے پٹڑی پر لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایپل نے اس معاہدے سے قبل OpenAI، Anthropic اور Perplexity جیسی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی تھی۔
اس تعاون کے باوجود ایپل نے واضح کیا ہے کہ اس کا اپنا اندرونی نظام، ‘ایپل انٹیلیجنس’ (Apple Intelligence)، ڈیوائس کی سطح پر آئی فونز اور آئی پیڈز کو چلانے کے لیے استعمال ہوتا رہے گا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ اس عمل میں “صنعت کے اعلیٰ ترین پرائیویسی معیارات” کو برقرار رکھے گی۔
ایپل کو حالیہ برسوں میں AI کی دوڑ میں پیچھے تصور کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ کمپنی کی AI ٹیم کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا تھا اور ‘سری’ کے بہتر ورژن کی ریلیز میں بھی تاخیر ہوئی تھی، جسے اب رواں سال کے آخر تک پیش کیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
