نیویارک میں ڈیٹاسینٹرزکی تعمیر پر3سالہ پابندی کی تجویز

حالیہ تحقیقی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے بے تحاشہ بجلی استعمال کرنے سے عام شہریوں کے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Editor News

نیویارک: ریاست نیویارک کے قانون سازوں نے ایک نیا بل متعارف کرایا ہے جس کے تحت نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ان کے آپریشنز کے اجازت ناموں پر کم از کم تین سال کے لیے پابندی (Moratorium) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نیویارک اب امریکہ کی ان چھ ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے ڈھانچے پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

پابندی کیوں ضروری ہے؟
ریاستی سینیٹر لِز کروگر اور اسمبلی ممبر اینا کیلیس کی جانب سے پیش کردہ اس بل کا مقصد مقامی کمیونٹیز کو ڈیٹا سینٹرز کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے بے تحاشہ بجلی استعمال کرنے سے عام شہریوں کے بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گرین پیس’ اور ‘فرینڈز آف دی ارتھ’ سمیت 230 سے زائد ماحولیاتی گروپوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی سطح پر ان سینٹرز کی تعمیر روکی جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر بائیں بازو کے ترقی پسند رہنما برنی سینڈرز اور دائیں بازو کے قدامت پسند گورنر رون ڈی سینٹس دونوں ہم خیال نظر آتے ہیں۔

رون ڈی سینٹس گورنر فلوریڈا نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے توانائی کے بل صرف اس لیے بڑھیں گے تاکہ کوئی چیٹ بوٹ (Chatbot) آن لائن بیٹھ کر 13 سالہ بچے کو گمراہ کر سکے۔”

برنی سینڈرز نے پورے امریکہ میں ان سینٹرز کی تعمیر پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر لِز کروگر نے نیویارک کو ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے “مکمل طور پر غیر تیار” قرار دیتے ہوئے کہا:”یہ وقت ‘پوز بٹن’ دبانے کا ہے تاکہ ہم اپنی پالیسیاں مضبوط بنا سکیں اور نیویارک کے صارفین کو کسی ایسے معاشی بلبلے (Bubble) کا بوجھ اٹھانے سے بچا سکیں جو مستقبل میں پھٹ سکتا ہے۔”

گورنر کیتھی ہوچل کا ‘انرجائز این وائی’ (Energize NY) منصوبہ
دوسری جانب، نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے گزشتہ ماہ ‘انرجائز این وائی ڈویلپمنٹ’ کے نام سے ایک اقدام شروع کیا ہے، جس کا مقصد گرڈ سسٹم کو جدید بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز جیسے بڑے صارفین اپنا “واجب الادا حصہ” خود ادا کریں نہ کہ عام عوام پر بوجھ ڈالیں

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *