میٹانےسنگاپورمیں قائم کمپنی Manus کوخریدنے کامعاہدہ کرلیا

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اے آئی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں

Editor News

سان فرینسسکو(ویب ڈیسک): فیس بک کی مالک کمپنی میٹا (Meta) نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے سنگاپور میں قائم کمپنی Manus کو خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ مینس ایک ایڈوانسڈ اے آئی ایجنٹ ہے جسے ابتدا میں چین میں بننے والی کمپنی نے تیار کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اے آئی ایجنٹس عام چیٹ بوٹس (جیسے ChatGPT) سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ جہاں چیٹ بوٹس صرف سوالوں کے جواب دیتے ہیں، وہاں اے آئی ایجنٹس صارف کے لیے خود مختار طریقے سے پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں۔

مینس (Manus) نوکریوں کے لیے آنے والی سینکڑوں سی وی (Resumes) کا خلاصہ تیار کر سکتا ہے یا اسٹاک مارکیٹ کا تجزیہ کرنے والی مکمل ویب سائٹ خود تیار کر سکتا ہے۔

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اے آئی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ اس خریداری سے اربوں صارفین کو جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

شیاؤ ہونگ نے کہا کہ “اے آئی کا وہ دور شروع ہو رہا ہے جو صرف باتیں نہیں کرتا بلکہ کام بھی کرتا ہے۔ میٹا کے ساتھ مل کر ہم اسے اس سطح پر لے جائیں گے جس کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔”

اگرچہ اس سودے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن بلومبرگ کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ یہ سودا 2 ارب ڈالرز سے زیادہ کا ہو سکتا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کو قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:

چین اور امریکہ کی دشمنی: چونکہ مینس کی بنیاد چین میں رکھی گئی تھی، اس لیے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری تکنیکی سرد جنگ کی وجہ سے ریگولیٹری ادارے اس پر اعتراض کر سکتے ہیں۔

سنگاپور میں مقیم ہونے کے باوجود کمپنی کے چینی پس منظر کی وجہ سے ڈیٹا سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *