وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر افریقی ممالک کا شدید ردعمل

فریقی یونین نے اپنے ایک بیان میں وینزویلا کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا

Editor News

ابوجا، نائیجیریا (اے ایف پی) – افریقی ممالک اور تنظیموں نے امریکہ کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔

افریقی یونین نے اپنے ایک بیان میں وینزویلا کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یونین نے مادورو کی “اغوا” اور وینزویلا کے اداروں پر فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ریاستوں کی سالمیت اور عوام کے حقِ خودارادیت پر زور دیا۔

دوسری جانب، مغربی افریقی ممالک کی تنظیم ایکوواس (ECOWAS) نے اگرچہ براہِ راست امریکہ پر تنقید نہیں کی، لیکن واضح کیا کہ بین الاقوامی جرائم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں کسی ملک کی خود مختاری کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ ایکوواس نے وینزویلا کے بحران کے حل کے لیے مقامی سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

حکومتِ پریٹوریا نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ فوجی مداخلتیں صرف عدم استحکام پیدا کرتی ہیں اور یہ بین الاقوامی نظام کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔

نمیبیا نے اس واقعے پر “شدید صدمے” کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اسے نوآبادیاتی دور کی یاد تازہ کرنے والا عمل قرار دیا۔

“نوآبادیاتی عزائم کی کوئی جگہ نہیں”
گھانا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی سخت مذمت کی جس میں انہوں نے وینزویلا پر حکمرانی کرنے اور وہاں کے تیل کے ذخائر کو استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ گھانا کے مطابق، ایسے بیانات دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عالمی نظم و ضبط کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔ گھانا نے مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گلز نے دعویٰ کیا ہے کہ نائیجر، انگولا، چاڈ اور لائبیریا سمیت کئی افریقی ممالک نے ان کے ساتھ رابطہ کر کے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ تاہم، مالی، نائیجر اور برکینا فاسو (جو کہ مادورو حکومت کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں) نے ابھی تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا اور وہ آپس میں مشاورت کر رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی کہ “جو مادورو کے ساتھ ہوا وہ دوسروں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے”—نے افریقی رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *