ویب ڈیسک : امریکی تحقیقاتی اداروں اور سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے سابق اہلکاروں نے الزام لگایا ہے کہ بھارت نے 12 جون 2025 کو ہونے والے ایئر انڈیا کے احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات میں مکمل تعاون نہیں کیا، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بھارتی حکام نے تفتیش کے لیے درکار متعدد اہم شواہد تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی صحافی اور سابق سی آئی اے اہلکار سارہ ایڈمز نے بتایا کہ امریکی تفتیشی ٹیم کی ابتدائی تحقیقات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حادثہ پائلٹ کی ممکنہ لاپرواہی کے باعث پیش آیا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق بھارتی حکام اب بھی حادثے کے بلیک باکس ڈیٹا تک مکمل رسائی دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایڈمز کا کہنا ہے کہ اگر حادثے کی وجہ پائلٹ کی غلطی تھی، تو بلیک باکس ڈیٹا کو چھپانا کسی بھی طرح سے ‘خودمختاری’ نہیں ہے، بلکہ یہ سیکیورٹی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
امریکی جریدے ‘دی ٹیلی گراف’ نے ایک رپورٹ میں امریکی ایرو اسپیس ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کی تباہی میں انسانی مداخلت کا امکان موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بلیک باکس ڈیٹا سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کاک پٹ میں موجود کسی فرد نے انجن کا فیول سپلائی سسٹم جان بوجھ کر بند کیا تھا۔
‘دی ٹیلی گراف’ اور ‘وال سٹریٹ جرنل’ دونوں نے اپنی رپورٹس میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ حادثہ ممکنہ طور پر دانستہ طور پر کیا گیا تھا۔
امریکی تفتیشی ٹیم نے مزید شکایات کی ہیں کہ:انہیں حادثے کے ملبے کی تصاویر لینے سے روکا گیا۔کچھ اہم شواہد ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی غائب کر دیے گئے۔
بھارتی حکام نے ماہرین کو کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا کے مکمل تجزیے تک رسائی بھی نہیں دی۔
امریکی اداروں کا مؤقف ہے کہ بھارتی عدالتوں اور تفتیشی نظام کی شفافیت پر عدم اعتماد سے تحقیقات مزید مشکوک ہوگئی ہیں۔ ان اداروں نے حادثے کی اصل وجوہات کے تعین کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید شفافیت لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
