کیمرج یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی بڑی پیش رفت: لیبارٹری میں انسانی خون بنانے کا نیا ماڈل تیار

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خون کی بیماریوںکے بارے میں گہری سمجھ پیدا کرنے اور جدید ری جنریٹیو علاج کے نئے امکانات کھولنے میں مدد دے سکتی ہے۔

Editor News

ویب ڈیسک| 9نومبر

کیمرج: برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمرج کے سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا اسٹیم سیل ماڈل تیار کیا ہے جو لیبارٹری میں انسانی خون کے خلیات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ عمل انسانی جنین (ایمبریو) کی ابتدائی نشوونما کے مراحل کی نقل کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خون کی بیماریوںکے بارے میں گہری سمجھ پیدا کرنے اور جدید ری جنریٹیو علاج کے نئے امکانات کھولنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے انسانی اسٹیم سیلز کو استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی (3D) ایمبریو نما ساختیںتیار کیں جنہیں “ہیماٹوئیڈز” (Hematoids) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ساختیں خود بخود منظم ہو جاتی ہیں اور تقریباً و ہفتوں میں خون بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ عمل انسانی جنین میں چوتھے اور پانچویں ہفتے کے دوران ہونے والی قدرتی نشوونما سے مشابہ ہے — ایک ایسا مرحلہ جو عموماً رحم میں امپلانٹیشن کے بعد براہِ راست مشاہدے سے پوشیدہ رہتا ہے۔

تحقیق کے مطابق، ہیماٹوئیڈز حقیقی جنین نہیں ہیں کیونکہ ان میں یولک ساک (yolk sac)یا پلیسینٹا (placenta) جیسے اہم معاون اجزاء شامل نہیں ہوتے، اور یہ مکمل طور پر کسی جنین میں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ تاہم، یہ تین بنیادی جرمی تہیں (ectoderm، mesoderm، endoderm) بناتے ہیں جن سے جسم کے تمام اعضاء اور بافتیں بنتی ہیں، بشمول خون کا نظام۔

تحقیقی مشاہدات کے مطابق، دوسرے دن تک ہیماٹوئیڈز میں یہ تین تہیں تشکیل پا جاتی ہیں، آٹھویں دن دل کی دھڑکن جیسے خلیات نظر آتے ہیں، اور تیرہویں دن سرخ دھبےظاہر ہوتے ہیں جو خون بنانے والے اسٹیم سیلزکی تخلیق کی علامت ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیم سیلز انسانی جسم کے کسی بھی خلیے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور یہ مختلف اقسام کے خون کے خلیات مثلاً آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیے اور مدافعتی نظام میں کردار ادا کرنے والے سفید خلیےپیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *