سڈنی(ویب ڈیسک): سڈنی کے بونڈی بیچ پر اتوار کے روز یہودی تہوار ہنوکا کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے۔ پولیس نے پیر (15 دسمبر) کی صبح تصدیق کی کہ 40 افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اتوار کو مارا گیا ایک مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق اتوار (14 دسمبر) کو بونڈی بیچ پر ہنوکا کی تقریب کے دوران دو مسلح افراد نے فائرنگ کی، جسے پولیس نے ’’دہشت گردانہ حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر کے مشہور سیاحتی مقام پر پیش آیا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد کم از کم 29 افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پولیس نے ایک مشتبہ حملہ آور سے منسلک گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (IEDs) بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی نے عام شہریوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے اس شخص کو ’’ہیرو‘‘ قرار دیا جس نے ایک حملہ آور کو قابو میں لے کر اسلحہ چھین لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہنوکا کے پہلے دن یہودی آسٹریلوی شہریوں کو نشانہ بنانے والا حملہ ہے، جو خوشی اور عبادت کا دن ہونا چاہیے تھا۔ یہ شر، یہود دشمنی اور دہشت گردی کا عمل ہے جس نے ہمارے ملک کے دل پر وار کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہودی آسٹریلویوں پر حملہ، ہر آسٹریلوی پر حملہ ہے۔‘‘
یہ فائرنگ بونڈی بیچ پر منعقدہ سالانہ ’’ہنوکا بائے دی سی‘‘ تقریب کے دوران ہوئی، جس میں پولیس کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔ واقعے کے بعد ساحل سمندر پر خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کافی دیر تک جاری رہی۔ ایک گواہ نے بتایا کہ ساحل پر خون ہر طرف پھیلا ہوا تھا، جبکہ گھاس والے حصے میں بھاگتے لوگوں کا سامان بکھرا پڑا تھا، جن میں بچوں کی گاڑی بھی شامل تھی۔ سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ طبی عملہ زخمیوں کو فوری امداد فراہم کر رہا ہے۔ ایک درخت کے قریب پمپ ایکشن شاٹ گن بھی پڑی دیکھی گئی۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’یہودیوں پر ظالمانہ حملہ‘‘ قرار دیا اور آسٹریلوی حکام سے یہود دشمنی کے خلاف اقدامات تیز کرنے پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ حملے سے قبل کے عرصے میں حکومت کی پالیسیوں نے یہودی مخالف جذبات کو ہوا دی۔
دوسری جانب، آسٹریلیا میں یہودی برادری کے خلاف حالیہ مہینوں میں یہود دشمن حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آسٹریلوی حکومت اس سے قبل ایران پر ایسے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر چکی ہے، تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کے سربراہ نے اس واقعے کو ’’سانحہ مگر قابلِ پیش گوئی‘‘ قرار دیا، جبکہ ایک معروف مسلم تنظیم نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
