وینزویلا کے معزول صدر نکولس مدورونیویارک کی عدالت میں پیش

سنہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں یہ سب سے بڑی امریکی مداخلت ہے۔

Editor News

نیویارک/کاراکاس (رائٹرز) – وینیزویلا کے معزول رہنما نکولس مدورو پیر کے روز نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہیں منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر معمولی آپریشن کی قانونی حیثیت پر بحث ہونی ہے جس کے تحت مدورو کو گرفتار کیا گیا۔

سنہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں یہ سب سے بڑی امریکی مداخلت ہے۔ ہفتے کے آخر میں امریکی اسپیشل فورسز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کاراکاس میں کارروائی کی، مدورو کے حفاظتی حصار کو توڑا اور انہیں ایک محفوظ کمرے (safe room) کے دروازے سے گرفتار کر لیا۔

مدورو اور ان کی گرفتار شدہ اہلیہ، سیلیا فلورس کو پیر کی صبح 7 بجے بروکلین کے ایک حراستی مرکز سے مسلح پہرے میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن کی فیڈرل کورٹ منتقل کیا گیا، جہاں دوپہر کے وقت ان کی سماعت ہوئی۔

مدورو پر الزام ہے کہ وہ کوکین کی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک کی نگرانی کر رہے تھے جس نے میکسیکو کے ‘سینالوا’ اور ‘زیٹاس’ کارٹلز، کولمبیا کے ‘فارک’ (FARC) باغیوں اور وینیزویلا کے ‘ٹرین ڈی اراگوا’ گینگ جیسے پرتشدد گروہوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی تھی۔ 63 سالہ مدورو طویل عرصے سے ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ یہ سب وینیزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے سامراجی عزائم کو چھپانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مدورو کی 13 سالہ حکومت کے اعلیٰ حکام اب بھی وینیزویلا کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ ابتدائی طور پر انہوں نے سخت ردعمل دیا لیکن اب وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ممکنہ تعاون کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے مدورو کو ایک آمر اور ‘ڈرگ کنگ پن’ قرار دیا ہے، لیکن انہوں نے وینیزویلا کی تیل کی دولت میں حصہ لینے کی خواہش کو بھی نہیں چھپایا۔ وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر (تقریباً 303 ارب بیرل) موجود ہیں۔

وینیزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلس روڈریگز نے اتوار کو اپنے لہجے میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ باعزت تعلقات ان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا:

“ہم امریکی حکومت کو تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ہمارے عوام اور خطہ امن اور مذاکرات کے مستحق ہیں، جنگ کے نہیں۔”

عالمی ردعمل
ٹرمپ کی جانب سے ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت کی گرفتاری پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج اس عمل کی قانونی حیثیت پر بحث کرے گی۔ روس، چین اور وینیزویلا کے بائیں بازو کے اتحادیوں نے امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔

کیوبا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران اس کے 32 فوجی اور انٹیلیجنس اہلکار ہلاک ہوئے۔ امریکہ کے اتحادیوں کا ردعمل محتاط رہا ہے، جنہوں نے قانون کی پاسداری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وینیزویلا کے اندر مدورو کے مخالفین نے فی الحال جشن منانے سے گریز کیا ہے کیونکہ مدورو کے اتحادی اب بھی برسرِ اقتدار ہیں اور فوج کی جانب سے تاحال بغاوت کا کوئی نشان نہیں ملا۔ عالمی منڈیوں میں وینیزویلا کے بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں اور ایشیائی و یورپی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی آئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کو اقتدار سونپنے کا خیال مسترد کر دیا ہے، جس سے اپوزیشن اور بیرونِ ملک مقیم وینیزویلا کے شہریوں میں مایوسی پھیلی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *