امریکی کارروائی: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو گرفتار، نیویارک منتقل

روڈریگز نے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی کارروائی کو "بربریت" قرار دیا ہے

Editor News

نیویارک/کاراکاس(ویب ڈیسک): ایک انتہائی ڈرامائی اور حیران کن فوجی آپریشن کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اب وینزویلا کا کنٹرول مؤثر طریقے سے امریکہ کے پاس ہوگا، جب تک کہ وہاں اقتدار کی باقاعدہ منتقلی نہیں ہو جاتی۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ہفتے کی صبح صادق کے وقت کی گئی جس میں 150 سے زائد طیاروں اور ڈیلٹا فورس کے کمانڈوز نے حصہ لیا۔ کاراکاس میں مادورو کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر انہیں اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لیا گیا، جبکہ فضائی حملوں میں کاراکاس کے گرد و نواح میں اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

گرفتاری کے بعد مادورو کو پہلے ایک امریکی بحری بیڑے پر لے جایا گیا اور وہاں سے نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور اسلحے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں مادورو کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ وینزویلا کے لیے اپنی کابینہ کے ارکان کو نامزد کر رہے ہیں جو وہاں کے معاملات سنبھالیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ:

امریکی کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے ڈھانچے کو ٹھیک کریں گی اور وہاں سے تیل نکال کر عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا تاکہ آپریشن کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ وینزویلا میں امریکی فوج بھیجنے سے نہیں ڈرتے (“Boots on the ground”)۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی معروف اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کی حمایت کرنے کے بجائے مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم روڈریگز نے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی کارروائی کو “بربریت” قرار دیا ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے فی الحال ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *