نو منتخب میئر زوہران مامدانی کے اپارٹمنٹ کاکرایہ بڑھادیاگیا

سیاست دان ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جن کا خمیازہ عوام بھگتتے ہیں

Editor News

نیویارک: نیویارک کے نو منتخب میئر اور خود کو سوشلسٹ کہلوانے والے زوہران مامدانی (Zohran Mamdani) کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ ان کے استوریا، کوئینز والے پرانے اپارٹمنٹ کا کرایہ ان کے جاتے ہی 35 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔

اخبار ‘دی پوسٹ’ کے مطابق، مامدانی اس ایک بیڈ روم کے اپارٹمنٹ کے لیے ماہانہ 2,300 ڈالر ادا کر رہے تھے، لیکن اب اسی اپارٹمنٹ کے لیے نئے کرائے دار کو 3,100 ڈالر ادا کرنے ہوں گے، یعنی ماہانہ 800 ڈالر کا اضافہ۔

مامدانی، جو کہ مشہور فلم ساز میرا نائر کے بیٹے ہیں، گزشتہ سات سالوں سے اس اپارٹمنٹ میں رہ رہے تھے۔ انہیں ‘ترجیحی کرایہ’ کی رعایت حاصل تھی، جو کہ قانونی طور پر جائز حد سے کم تھا۔

مامدانی نے اپنی مہم کے دوران کرایوں کو منجمد کرنے اور سستی رہائش کا وعدہ کیا تھا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی پالیسیوں (جیسے FARE Act) کی وجہ سے مارکیٹ میں کرائے بڑھ رہے ہیں۔

فیئر ایکٹ (FARE Act): مامدانی نے اس قانون کی حمایت کی تھی جس کے تحت بروکر کی فیس کرائے دار کے بجائے مالک مکان پر ڈال دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالکان نے اب اس فیس کو براہِ راست کرایوں میں شامل کر دیا ہے، جس سے قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

نیویارک سٹی کونسل میں اقلیتی لیڈر جوآن اریولا (Joanne Ariola) نے طنز کرتے ہوئے کہا:”یہ ایک ‘نیپو بیبی’ (سفارشی بچہ) کی کہانی ہے جو اپنے مارکیٹ سے سستے اپارٹمنٹ کو چھوڑ کر سرکاری محل (Gracie Mansion) میں جا رہا ہے، جبکہ پیچھے آنے والے عام آدمی کے لیے کرایہ آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے۔”

کونسل مین رابرٹ ہولڈن نے اسے منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دان ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جن کا خمیازہ عوام بھگتتے ہیں جبکہ وہ خود ان کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

زوہران مامدانی نے 2019 میں ایک بار سوشل میڈیا پر شکایت کی تھی کہ ان کے اپارٹمنٹ کا کرایہ 1984 میں صرف 290 ڈالر تھا جو اب 2,000 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جسے انہوں نے “ڈکیتی” قرار دیا تھا۔ تاہم، اپنی 142,000 ڈالر کی سالانہ تنخواہ اور خاندانی دولت کے باوجود سستے اپارٹمنٹ میں رہنے پر انہیں انتخابی مہم کے دوران کڑی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اب مامدانی یکم جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد اپنی اہلیہ کے ہمراہ نیویارک کے میئر کی سرکاری رہائش گاہ ‘گریسی مینشن’ منتقل ہو جائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *