نیو یارک سٹی: لوئر مین ہٹن میں پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران آرون ایڈورڈز اور چارلس منچ کو باضابطہ طور پر NYPD کے اسسٹنٹ چیف کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔
45 سالہ آرون ایڈورڈز، جو اب مین ہٹن نارتھ پیٹرول بورو کے کمانڈنگ آفیسر ہیں، اس وقت کالج کے طالب علم تھے جب 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردانہ حملے ہوئے۔
ایڈورڈز کاکہناہےکہ “میں نے دیکھا کہ جب سب لوگ جان بچا کر ٹاورز سے باہر بھاگ رہے تھے، ہمارے پولیس افسران اور فرسٹ ریسپونڈرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر اندر جا رہے تھے۔ اس بے لوث بہادری نے مجھے اس پیشے کی طرف راغب کیا۔”
ایڈورڈز 2003 میں پولیس فورس میں شامل ہوئے اور منشیات کے خاتمے سے لے کر کورونا وبا اور حالیہ تارکین وطن کے بحران (Migrant Crisis) کے دوران اہم خدمات انجام دیں۔
51 سالہ چارلس منچ، جنہیں بروکلین ساؤتھ پیٹرول بورو کا کمانڈنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے، پولیس کے شعبے میں اپنے خاندان کی تیسری نسل کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انکے والد جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس میں فرسٹ گریڈ ڈیٹیکٹیو تھے اور انہوں نے25 سال خدمات انجام دیں۔
جبکہ دادانےنیو یارک فائر ڈیپارٹمنٹ میں 20 سال تک خدمات انجام دیں۔
منچ کے خاندان نے مجموعی طور پر نیو یارک شہر کی ساڑھے 77 سال تک خدمت کی ہے۔
چارلس منچ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن ہی سے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے تھے اور جیسے ہی موقع ملا انہوں نے محکمہ جوائن کر لیا۔
کمنشر جیسیکا ٹش کی نئی حکمت عملی
یہ ترقیاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پولیس کمشنر جیسیکا ٹش محکمہ میں نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے 4,000 نئے ریکروٹس (بھرتیوں) کا اعلان کیا ہے۔ ایڈورڈز اور منچ جیسے تجربہ کار افسران کی ترقی کا مقصد نئے آنے والے اہلکاروں کو بہترین قیادت فراہم کرنا ہے۔
دونوں افسران نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے خاندانوں، خصوصاً اپنی بیگمات کے سر باندھا۔ ایڈورڈز نے کہا کہ ان کی اہلیہ ان کی مضبوطی کی بنیاد ہیں، کیونکہ پولیس کی ڈیوٹی کے طویل اوقات اور خاندانی تقریبات میں شرکت نہ کر پانے کے بوجھ کو ان کی شریکِ حیات نے بڑی ہمت سے سنبھالا ہے۔
