پاک-امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلی: 2025 سفارتی محاذ پر اہم ترین سال قرار

پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کا آغاز دہشت گردی کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے ہوا

Atif Khan

نیویارک: ایک معروف امریکی اشاعتی ادارے نے سال 2025 کو پاک-امریکہ تعلقات میں “انقلابی تبدیلیوں کا سال” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حرکیات میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کو اجاگر کیا ہے۔

واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی میں حیران کن تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق واشنگٹن کی دہائیوں پرانی ‘انڈیا فرسٹ’ (پہلے بھارت) کی پالیسی ختم ہو چکی ہے اور اب امریکی ترجیحات میں پاکستان کو برتری حاصل ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید جھڑپ کو قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

مضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات کا گہرا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اب ایک ‘ناپسندیدہ ریاست’ کے بجائے امریکہ کے لیے ایک ‘اہم شراکت دار ملک’ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان کا امیج اتنی تیزی سے تبدیل ہونا ایک منفرد اور نایاب واقعہ ہے، جس نے پاکستان کو ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

تجزیے کے مطابق، ابتدائی طور پر امریکی حکمتِ عملی ‘کواڈ’ (Quad) جیسے فورمز کے ذریعے بھارت کو مضبوط کرنا اور اسلام آباد کو نظر انداز کرنا تھی، لیکن بھارت کی اندرونی سیاسی صورتحال، ذاتی آزادیوں پر پابندیاں، غیر تسلی بخش فوجی کارکردگی اور سفارتی چیلنجز نے ایک ‘علاقائی استحکام لانے والے ملک’ کے طور پر بھارت کے کردار پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کا آغاز دہشت گردی کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے سے ہوا، جس نے واشنگٹن کو ٹھوس تعاون کے واضح اشارے دیے۔

صدر ٹرمپ نے ایک قومی خطاب کے دوران غیر متوقع طور پر پاکستان کی تعریف کی، جس سے واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔

اسلام آباد نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور محدود تعاون کو بھی تزویراتی (Strategic) شراکت داری میں بدل دیا۔

: مضمون کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ مئی کی پاک-بھارت جھڑپ کے بعد یہ تعلق محض ‘لین دین’ (Transactional) سے نکل کر ایک مضبوط ‘تزویراتی تعلق’ میں ڈھل چکا ہے، جو مستقبل میں خطے کے امن و امان پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *