سری لنکا میں سمندری طوفان کی تباہ کاری: 1.8 ملین افراد متاثر

ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

Editor News

کولمبو: سری لنکا کے تمام 25 اضلاع میں آنے والے حالیہ سمندری طوفان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ملک کی کل آبادی کا تقریباً 8 فیصد یعنی 18 لاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اموات اور لاپتہ افراد: اب تک 643 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 183 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 2 لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں جو اسکولوں، عبادت گاہوں اور دیگر عارضی مراکز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق سری لنکا کو مجموعی طور پر 4.1 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، جو ملک کی کل جی ڈی پی کا 4 فیصد ہے۔

یونیسیف (UNICEF) نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران میں بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ 1,300 سے زائد اسکول اور 6 یونیورسٹیاں متاثر ہوئی ہیں۔ تقریباً 500 اسکولوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر تین میں سے ایک خاندان کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور والدین بچوں کے کھانے میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے انتہائی ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے 35.3 ملین ڈالرز کے ہنگامی فنڈ کا مطالبہ کیا ہے۔

یونیسیف کو بچوں کی امداد کے لیے 7.8 ملین ڈالرز درکار ہیں، تاہم اب تک آدھی رقم بھی موصول نہیں ہو سکی۔

زراعت کے شعبے کو 800 ملین ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے، جس سے چھوٹے کسانوں کا روزگار اور ملک کی غذائی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا انتباہ: اگر عالمی سطح پر فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو سری لنکا کے لیے اس بحران سے نکلنا اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *