واشنگٹن / نیویارک: مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا کی معروف ترین کمپنی ‘اوپن اے آئی’ (OpenAI) نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانے اور مستقبل کی ممکنہ ریگولیٹری سختیوں سے بچنے کے لیے امریکی حکومت کو کمپنی میں 5 فیصد حصص (Shares) دینے کی غیر معمولی تجویز پیش کی ہے۔
برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز’ (Financial Times) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، اس خفیہ معاملے سے واقف دو اہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اوپن اے آئی نے یہ تجویز اپنے متوقع ‘انیشل پبلک آفرنگ’ یا ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (IPO) سے قبل دی ہے۔ کمپنی کا مقصد حکومت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کرنا اور سازگار ماحول برقرار رکھنا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ امریکہ کی دیگر بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں، بشمول اینتھروپک (Anthropic)، بھی امریکی حکومت کو اپنی کمپنیوں میں اسی نوعیت کی ایکویٹی یا حصص دینے پر غور کریں۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت اسٹریٹجک اور اہم ترین کارپوریشنز میں براہِ راست سرمایہ کاری یا حصص حاصل کرنے کی پالیسی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران امریکی حکومت نے سیمی کنڈکٹر کمپنی انٹیل (Intel) میں تقریباً 10 فیصد جبکہ ایم پی میٹیریلز (MP Materials) میں 15 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی کے باعث عالمی سطح پر معاشی اثرات اور خاص طور پر ملازمتوں میں کمی (Job Losses) کے خدشات پر عوامی اور حکومتی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اوپن اے آئی کی یہ پیشکش حکومت کو اپنا شراکت دار بنا کر مستقبل کے سخت قوانین اور سیکیورٹی آڈٹس کے خطرات کو ٹالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم، اس سنسنی خیز رپورٹ پر تاحال اوپن اے آئی کے ترجمان یا امریکی حکومت (ٹرمپ انتظامیہ) کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔





