جنیوا (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام جنیوا میں قائم دنیا کے واحد کثیر الجہتی مذاکراتی فورم، تخفیفِ اسلحہ کانفرنس (Conference on Disarmament) نے اپنے سالانہ اجلاس کے حوالے سے اہم تفصیلات اور ایجنڈا جاری کر دیا ہے۔
1978 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دسویں خصوصی اجلاس (SSOD-I) میں تسلیم کیے جانے والے اس فورم کو عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ روکنے اور تخفیفِ اسلحہ کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
یہ کانفرنس جنیوا میں قائم سابقہ مذاکراتی فورمز کی جانشین ہے، جن میں 1960 کی دہائی کی ‘دس ملکی کمیٹی’ اور بعد ازاں ‘کمیٹی آف ڈس آرمامنٹ’ (1969-1978) شامل ہیں۔ اس فورم نے ماضی میں کئی تاریخی عالمی معاہدے تیار کیے ہیں، جن میں درج ذیل نمایاں ہیں:
این پی ٹی (NPT): جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا معاہدہ۔
حیاتیاتی ہتھیاروں کا کنونشن (BWC): بیالوجیکل ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر پابندی۔
کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن (CWC): کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ۔
ی ٹی بی ٹی (CTBT): جامع جوہری تجربات پر پابندی کا معاہدہ۔
سال 2026 کے اجلاسوں میں بھی کانفرنس ان اہم نکات پر توجہ مرکوز رکھے گی:
جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خاتمہ اور مکمل جوہری تخفیفِ اسلحہ۔
جوہری جنگ کی روک تھام اور متعلقہ معاملات۔
خلائی ہتھیاروں کی دوڑ (Outer Space Arms Race) پر قابو پانا۔
غیر جوہری ریاستوں کو جوہری حملے کی دھمکی سے تحفظ فراہم کرنا۔
تباہی پھیلانے والے نئے ہتھیاروں اور ‘ریڈیولوجیکل’ ہتھیاروں کی روک تھام۔
تخفیفِ اسلحہ کا جامع پروگرام اور ہتھیاروں کی تجارت میں شفافیت۔
اس کانفرنس میں 65 مستقل رکن ممالک شامل ہیں، جن میں جوہری طاقتیں بھی شامل ہیں۔ سال 2026 کے پہلے حصے کی صدارت حروفِ تہجی کے اعتبار سے منگولیا کر رہا ہے، جس کے بعد مراکش، نیدرلینڈز، نائیجیریا، ناروے اور پاکستان بالترتیب صدارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
کانفرنس کا سالانہ اجلاس تین حصوں (10، 7 اور 7 ہفتے) پر محیط ہوتا ہے۔ تمام فیصلے ‘اتفاقِ رائے’ (Consensus) کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر جنیوا کی ڈائریکٹر جنرل، محترمہ تاتیانا والووایا، اس کانفرنس کی سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ذاتی نمائندہ کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔
