قوامِ متحدہ کے’فوری مالیاتی دیوالیہ’ہونےکاخطرہ، سیکریٹری جنرل کاسنگین انتباہ

انہوں نے کہا کہ سالانہ واجبات کی عدم ادائیگی، سخت مالیاتی قوانین اور نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی شدید کمی نے ادارے کو "لمحہ فکریہ" تک پہنچا دیا ہے۔

Editor News

نیویارک: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رکن ممالک کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ عالمی ادارہ “فوری مالیاتی خاتمے” (imminent financial collapse) کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ واجبات کی عدم ادائیگی، سخت مالیاتی قوانین اور نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی شدید کمی نے ادارے کو “لمحہ فکریہ” تک پہنچا دیا ہے۔

روزنامہ ’ڈان‘ کو موصول ہونے والے ایک خط کے مطابق، جو اس ہفتے اقوامِ متحدہ میں تمام ممالک کے مستقل نمائندوں کو بھیجا گیا، سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ اگر رکن ممالک نے اپنے حصے کے فنڈز بروقت ادا نہ کیے یا مالیاتی قوانین میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں، تو ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔

28 جنوری کو لکھے گئے اس غیر معمولی خط میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا موجودہ مالیاتی راستہ اب “ناقابلِ عمل” ہو چکا ہے، جس سے ادارے کو ساختی خطرات لاحق ہیں اور اب انتخاب صرف “اصلاحات یا تباہی” کے درمیان بچا ہے۔

گوتریس کے مطابق، اگرچہ اقوامِ متحدہ نے ماضی میں بھی مالی مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن موجودہ صورتحال قطعی طور پر مختلف ہے کیونکہ اب کئی ممالک نے باقاعدہ طور پر واجبات ادا نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے اقوامِ متحدہ کے مالیاتی نظام میں موجود ایک عجیب و غریب منطق کی نشاندہی کی، جسے انہوں نے “کافکائی تضاد” قرار دیا۔ موجودہ قوانین کے تحت:ادارے کو بجٹ کے وہ پیسے بھی رکن ممالک کو واپس کرنا پڑتے ہیں جو بچ گئے ہوں، چاہے وہ رقم اصل میں کبھی وصول ہی نہ ہوئی ہو۔

انہوں نے لکھا: “ہم ایک ایسے چکر میں پھنس گئے ہیں جہاں ہم سے وہ نقد رقم واپس کرنے کی توقع کی جاتی ہے جو سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔”

خط میں درج ریکارڈز کے مطابق سال 2025 کے اختتام پر غیر ادا شدہ واجبات 1.568 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔

مجموعی طور پر مقررہ فنڈز کا صرف 76.7 فیصد ہی وصول ہو سکا ہے۔

اخراجات میں کمی کے باوجود ادارے کے نقد ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جس سے روزمرہ کے کاموں کے ٹھپ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *