نیویارک(ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی افواج اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری تنازع کے باوجود، انسانی ہمدردی کی ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں مستحق خاندانوں تک امداد پہنچا رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق، گزشتہ چند دنوں میں اقوامِ متحدہ کے شراکت داروں نے غزہ کے شمالی اور جنوبی حصوں میں 2 لاکھ افراد کے لیے صابن کی 13 لاکھ ٹکیاں تقسیم کیں۔تقریباً 7,000 ڈگنٹی کٹس (وقار کٹس) اور 5,600 فیملی ہائجین کٹس (صحت و صفائی کا سامان) فراہم کیں۔
گرتے ہوئے درجہ حرارت کے پیشِ نظر ہنگامی پناہ گاہوں کی فراہمی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
16,000 سے زائد خاندانوں کو خیمے، ترپالیں اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی کچی پناہ گاہوں کو موسم کی سختیوں سے بچا سکیں۔
ہزاروں کمبل، گدے، بستر، کچن کے سیٹ اور کپڑے بھی تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ لوگ انتہائی نازک حالات میں موسمِ سرما گزار سکیں۔
36 شراکت داروں کے تعاون سے روزانہ 21,500 کیوبک میٹر تازہ پانی 2,300 سے زیادہ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔
غزہ بھر میں 420 عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں 230,000 طلبہ کو 5,500 اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔ غزہ سٹی میں سرکاری اسکولوں کی مرمت کے بعد مزید 1,800 بچے دوبارہ تعلیم کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے حال ہی میں 18 مریضوں اور ان کے 36 تیمارداروں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔ اسٹیفن دوجارک نے زور دیا کہ انخلاء کا یہ سلسلہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
مغربی کنارے کے حوالے سے اوچا (OCHA) نے اطلاع دی ہے کہ شدید سردی اور طوفانی موسم نے بدوؤں اور چرواہا برادریوں کے درجنوں خیموں کو تباہ کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اجازت نامہ (Permit) نہ ہونے کے بہانے 50 عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں۔
اسٹیفن دوجارک نے واضح کیا کہ: “ہمارا پیغام سادہ ہے؛ غزہ ہو یا مغربی کنارہ، اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت دار انتہائی کٹھن حالات کے باوجود ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”
