نیویارک: اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام نے گزشتہ ایک سال میں نمایاں سیاسی اور سماجی ترقی کی ہے، تاہم ملک کی بحالی کا عمل اب بھی انتہائی نازک ہے اور اسے مسلسل عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، اس بڑی تبدیلی کی سب سے واضح نشانی بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کی بڑے پیمانے پر واپسی ہے۔
ملک کے اندر بے گھر ہونے والے 20 لاکھ سے زائد افراد اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔پڑوسی ممالک سے 13 لاکھ سے زائد پناہ گزین بھی واپس شام پہنچے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی امدادی عہدیدار جوائس میسویا نے بتایا کہ بہت سے لوگ برسوں تک کیمپوں میں مشکل حالات میں رہنے کے بعد واپس آئے ہیں، لیکن اب انہیں تباہ شدہ گھروں، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی اور روزگار کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے اپنی امدادی کارروائیوں کو بہتر بنا کر اب ہر ماہ 34 لاکھ افراد تک رسائی حاصل کر لی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، 2025 کے لیے انسانی ہمدردی کی اپیل کو اب تک صرف 30 فیصد فنڈز مل سکے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد امداد سے محروم رہ سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے شعبہ سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے شام میں ہونے والی سیاسی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:
ریاستی اداروں کو بحال کر دیا گیا ہے۔
نئی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔
اکتوبر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے۔
اگرچہ تشدد کی مجموعی سطح میں کمی آئی ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ فرقہ وارانہ تناؤ اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سویدا میں ہونے والی جھڑپوں اور دمشق میں چرچ پر دہشت گرد حملے کا حوالہ دیا، جن سے صورتحال کی حساسیت کا پتہ چلتا ہے۔ مزید برآں، جنوبی شام میں اسرائیلی فضائی حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
حکام نے زور دیا کہ شام میں طویل مدتی استحکام کے لیے احتساب اور قومی مصالحت ناگزیر ہے۔ گمشدہ افراد کا پتہ لگانا، ماضی کے مظالم کا ازالہ کرنا اور تعمیرِ نو کے عمل میں خواتین کی بھرپور شرکت وہ بنیادی عوامل ہیں جو شام میں اعتماد کی فضا پیدا کر سکتے ہیں۔
حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ شام میں امید کی جو نئی کرن پیدا ہوئی ہے، اسے پائیدار بحالی میں بدلنے کے لیے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔
