ٹرمپ انتظامیہ کا ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کے تحت 30 کے قریب سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ

واپس بلائے گئے سفارت کاروں میں زیادہ تر وہ پیشہ ور افسران شامل ہیں جو روایتی طور پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں۔

Atif Khan

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے تقریباً 30 امریکی سفیروں اور سینیئر کیریئر سفارت کاروں کو واپس واشنگٹن طلب کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر امریکی سفارت خانوں کو صدر کی ‘امریکہ فرسٹ’ (America First) ترجیحات کے مطابق ڈھالنا ہے۔

واپس بلائے گئے سفارت کاروں میں زیادہ تر وہ پیشہ ور افسران شامل ہیں جو روایتی طور پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سفیر صدر کا ذاتی نمائندہ ہوتا ہے، اور صدر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو تعینات کریں جو ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں۔ انہوں نے اسے ہر انتظامیہ کا ایک “معمول کا عمل” قرار دیا۔

ناقدین اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس اقدام کو “سیاسی رنگ” دینے اور امریکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی رکن ‘جین شاہین’ نے کہا کہ ماہر سفیروں کو ہٹانا روس اور چین جیسے حریفوں کو عالمی قیادت پلیٹ میں سجا کر دینے کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ سفارت کار زیادہ تر چھوٹے ممالک میں تعینات تھے، جہاں عام طور پر کیریئر ڈپلومیٹس کو ہی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔ ‘پولیٹیکو’ کے مطابق، تقریباً دو درجن سے زائد سفیروں کو عہدے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکن فارن سروس ایسوسی ایشن (AFSA) نے اس عمل کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کئی سفارت کاروں کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وجہ بتائے محض فون کال کے ذریعے واپسی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کی ترجمان ‘نکی گیمر’ نے اسے “ادارہ جاتی تخریب کاری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سفارت کاروں کے مورال اور امریکی اثر و رسوخ پر منفی اثر پڑے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *