واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘بورڈ آف پیس’ کے پہلے اجلاس میں غزہ کی بحالی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
نو ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، جس میں سعودی عرب نے 1 ارب ڈالر کی تصدیق کی ہے۔ دیگر امداد دینے والے ممالک میں یو اے ای، قطر، کویت اور ازبکستان شامل ہیں۔ امریکہ خود بھی اس مقصد کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی فورس بنائی جا رہی ہے جس میں انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیہ اپنے فوجی دستے بھیجیں گے۔ مصر اور اردن مقامی پولیس کی تربیت کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
ابتدائی طور پر یہ فورس رفح کے علاقے میں تعینات کی جائے گی جہاں تعمیرِ نو کا کام شروع ہوگا۔ میجر جنرل جاسپر جیفرز کے مطابق، مجموعی طور پر 20 ہزار فوجی اور 12 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ‘بورڈ آف پیس’ اقوامِ متحدہ کے کام کی نگرانی کرے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ رقم غزہ کی تباہی کے مقابلے میں (جس کے لیے 70 ارب ڈالر درکار ہیں) کم ہے، لیکن صدر اسے خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں۔
