گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں: امریکی ارکانِ پارلیمنٹ کا ڈنمارک کا ہنگامی دورہ

سینیٹر تھام ٹلس نے کہا کہ کانگریس کو اپنے اتحادیوں کی خودمختاری کے احترام میں متحد ہونا چاہیے۔

Editor News
U.S. Senator Chris Coons (D-DE) attends a Senate Appropriations Committee hearing on U.S. President Donald Trump's budget request for the Department of Defense, on Capitol Hill in Washington, D.C., U.S., June 11, 2025. REUTERS/Elizabeth Frantz

واشنگٹن/کوپن ہیگن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار علاقے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں کے بعد، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکانِ پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ وفد رواں ہفتے ڈنمارک کا دورہ کرے گا۔ اس دورے کا مقصد اتحادی ملک ڈنمارک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور ٹرمپ کے عزائم کے خلاف مزاحمت کا سگنل دینا ہے۔

اس دو فریقی وفد کی قیادت ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس، جین شاہین اور ڈک ڈربن بھی شامل ہیں۔

سینیٹر تھام ٹلس نے کہا کہ کانگریس کو اپنے اتحادیوں کی خودمختاری کے احترام میں متحد ہونا چاہیے۔

نیٹو (NATO) کا تحفظ: سینیٹر ڈک ڈربن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں غیر ضروری ہیں اور اس سے نیٹو اتحاد کمزور ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اور بیانات میں بارہا کہا ہے کہ امریکہ کو روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھالنا ہوگا۔

ٹرمپ نے کہا، “کسی نہ کسی طریقے سے ہم گرین لینڈ لے کر رہیں گے۔” انہوں نے ڈنمارک کے ساتھ ڈیل کو ترجیح دی لیکن طاقت کے استعمال کو بھی مسترد نہیں کیا۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور کسی بھی قسم کا قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا۔

گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی ایوانِ نمائندگان میں دو متضاد بل پیش کیے گئے ہیں:

گرین لینڈ اینیکسیشن اینڈ سٹیٹ ہڈ ایکٹ: ریپبلکن رکن رینڈی فائن نے یہ بل پیش کیا ہے جو صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ پر قبضے یا اسے امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

ڈیموکریٹک رکن جیمی گومز نے یہ بل پیش کیا ہے جس کا مقصد گرین لینڈ پر قبضے کے لیے کسی بھی قسم کے وفاقی فنڈز کے استعمال کو روکنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ کے حکم پر امریکی خصوصی دستوں نے وینزویلا کے معزول رہنما نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا۔ اس واقعے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر بھی اسی طرح کی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *