واشنگٹن (ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2026 کے لیے تارکین وطن کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
اس مقصد کے لیے ریپبلکن اکثریتی کانگریس نے جولائی میں ایک بڑا مالیاتی پیکج منظور کیا ہے، جس کے تحت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور بارڈر پٹرول کو ستمبر 2029 تک 170 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ یہ ان کے موجودہ 19 ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ میں ایک بہت بڑا اضافہ ہے۔
کام کی جگہوں پر چھاپے اور نئی حکمت عملی: وائٹ ہاؤس کے ‘بارڈر زار’ ٹام ہومن نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگلے سال گرفتاریوں کی تعداد میں “بڑا دھماکہ” (Explosion) ہوگا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اب انفورسمنٹ کارروائیوں کا دائرہ کار کھیتوں، فیکٹریوں اور دیگر کاروباری مراکز تک بڑھا دیا جائے گا، جنہیں اب تک معاشی اہمیت کی وجہ سے رعایت دی جا رہی تھی۔
انتظامیہ کے نئے منصوبے میں شامل ہے:
ہزاروں نئے ایجنٹوں کی بھرتی۔
نئے حراستی مراکز (Detention Centers) کا قیام۔
مقامی جیلوں سے تارکین وطن کی منتقلی۔
غیر قانونی مقیم افراد کا پتہ لگانے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری۔
ٹرمپ کی ان جارحانہ پالیسیوں کے خلاف عوامی اور سیاسی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ میامی جیسے شہروں میں، جہاں تارکین وطن کی بڑی آبادی ہے، حال ہی میں تین دہائیوں بعد پہلی بار ڈیموکریٹک میئر منتخب ہوا ہے، جسے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج دیکھا جا رہا ہے۔
سروے کے مطابق، امیگریشن پر ٹرمپ کی مقبولیت جو مارچ میں 50 فیصد تھی، دسمبر کے وسط تک گر کر 41 فیصد رہ گئی ہے۔ معتدل ریپبلکن سٹریٹیجسٹ مائیک میڈرڈ کا کہنا ہے کہ لوگ اب اسے محض امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور محلوں کی عسکری ناکہ بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار صدر کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کہ صرف “مجرموں” کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
نومبر کے آخر تک گرفتار ہونے والے تقریباً 54,000 افراد میں سے 41 فیصد ایسے تھے جن کا امیگریشن کی خلاف ورزی کے علاوہ کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ اس کے مقابلے میں، جنوری (ٹرمپ کے اقتدار سے پہلے) میں یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔
جنوری سے اب تک تقریباً 6 لاکھ 22 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے، جو کہ صدر کے سالانہ 10 لاکھ کے ہدف سے کم ہے۔
گرین کارڈ کے انٹرویو کے دوران شریک حیات کی گرفتاری، شہریت کی تقریب سے قبل لوگوں کو حراست میں لینا اور ہزاروں اسٹوڈنٹ ویزوں کی منسوخی جیسے اقدامات نے قانونی تارکین وطن کو بھی خوفزدہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر چھاپوں سے لیبر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے مزدوری کی لاگت بڑھے گی اور مہنگائی کے خلاف ٹرمپ کی جنگ متاثر ہوگی۔ یہ صورتحال نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جہاں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔
