ٹرمپ کی نئی سیکیورٹی حکمتِ عملی: یورپ کو “تہذیبی مٹاؤ” کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا

حکمتِ عملی میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو "یورپ اگلے 20 برس میں اپنی شناخت سے محروم ہو سکتا ہے"۔

Atif Khan

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اپنی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی (National Security Strategy) جاری کی ہے، جس میں یورپ پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے براعظم یورپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ سخت قوانین، سنسرشپ، کمزور خود اعتمادی اور بڑھتی ہوئی مہاجر آبادی کے باعث “تہذیبی مٹاؤ” (Cultural Erasure) کے خطرے سے دوچار ہے۔

سلامتی اور معیشت: دستاویز میں یورپی ممالک پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری لینے میں ناکام رہے ہیں اور امریکی سخاوت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

حکمتِ عملی میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو “یورپ اگلے 20 برس میں اپنی شناخت سے محروم ہو سکتا ہے”۔

دستاویز یورپی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قومی خودمختاری اور سیاسی آزادی کو کمزور کر رہے ہیں۔ امیگریشن پالیسیاں، آزادیٔ اظہار پر پابندیاں، اور کم ہوتی پیدائش کی شرح کو بھی بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے۔

ورپی ممالک نے اس امریکی پالیسی کو فوراً مسترد کر دیا ہے۔

جرمنی: جرمنی کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یورپ کو “باہری مشوروں کی ضرورت نہیں”۔

فرانس: فرانس نے اسے “ناقابلِ قبول اور خطرناک” قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی امریکی حکمتِ عملی سابقہ پالیسیوں سے مکمل طور پر مختلف ہے اور یہ پہلی بار ہے جب امریکا کھل کر “یورپی سیاسی ڈھانچے اور ادارہ جاتی سمت” کو چیلنج کر رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *