کیلیفورنیاکا’ڈیلیٹ ایکٹ’: اب ایک کلک پرآپ کاڈیٹامحفوظ

ایک بار درخواست جمع ہونے کے بعد، یہ تمام موجودہ اور مستقبل کے رجسٹرڈ ڈیٹا بروکرز کو بھیج دی جائے گی۔

Editor News

کیلیفورنیا(شمائلہ):اگرچہ کیلیفورنیا کے شہریوں کو 2020 سے یہ حق حاصل تھا کہ وہ کمپنیوں کو اپنا ڈیٹا جمع کرنے سے روک سکیں، لیکن اس کے لیے ہر کمپنی سے علیحدہ رابطہ کرنا ایک تھکا دینے والا کام تھا۔

اب ‘ڈیلیٹ ریکوئسٹس اینڈ آپٹ آؤٹ پلیٹ فارم’ (DROP) کے ذریعے شہری صرف ایک درخواست جمع کروا کر ریاست میں رجسٹرڈ تمام 500 سے زائد ڈیٹا بروکرز کو اپنی معلومات حذف کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

یہ سسٹم کیسے کام کرے گا؟
صارفین کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کیلیفورنیا کے رہائشی ہیں۔
ایک بار درخواست جمع ہونے کے بعد، یہ تمام موجودہ اور مستقبل کے رجسٹرڈ ڈیٹا بروکرز کو بھیج دی جائے گی۔
ڈیٹا بروکرز اگست 2026 سے ان درخواستوں پر کارروائی شروع کریں گے اور ان کے پاس ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کے لیے 90 دن کا وقت ہوگا۔

کون سا ڈیٹا حذف ہوگا اور کون سا نہیں؟
ڈیلیٹ ہونے والا ڈیٹا: سوشل سیکیورٹی نمبر، براؤزنگ ہسٹری، ای میل ایڈریس، فون نمبر اور دیگر ذاتی معلومات جو بروکرز خریدتے یا بیچتے ہیں۔

استثنیٰ (جو ڈیلیٹ نہیں ہوگا): * وہ معلومات جو براہ راست کسی کمپنی نے اپنے صارف سے جمع کی ہوں (First-party data)۔

عوامی دستاویزات جیسے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ووٹر ریکارڈ۔

حساس طبی معلومات جو ‘HIPAA’ جیسے دیگر قوانین کے تحت محفوظ ہیں۔

شہریوں کے لیے فوائد اور خلاف ورزی پر جرمانہ
کیلیفورنیا پرائیویسی پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق، اس ٹول کے استعمال سے:

غیر ضروری کالز، میسجز اور ای میلز میں کمی آئے گی۔

شناخت کی چوری (Identity Theft) اور فراڈ کے خطرات کم ہوں گے۔

اے آئی (AI) کے ذریعے کسی کی نقل اتارنے (Impersonation) یا ڈیٹا ہیک ہونے کا خدشہ کم ہوگا۔

جرمانہ: جو ڈیٹا بروکرز رجسٹریشن نہیں کرائیں گے یا صارفین کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے میں ناکام رہیں گے، انہیں 200 ڈالر یومیہ جرمانہ اور قانونی کارروائی کے اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *