ٹرمپ انتظامیہ نے نیشنل گارڈ حملے کے بعد تمام asylum کے فیصلے روک دیے

قرار دیا اور بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کی کہ افغان شہریوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی گئی۔

Atif Khan

واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام asylum کیسز پر فیصلے عارضی طور پر روک رہی ہے۔

امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ یہ عمل اس وقت تک معطل رہے گا جب تک ہر فرد کی زیادہ سے زیادہ جانچ اور اسکریننگ نہیں کی جاتی۔

اس خبر کو بھی پڑھیئے: امریکانےافغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کردی

ساتھ ہی افغان پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے ویزے بھی روک دیے گئے ہیں۔
فائر
بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں امریکی نیشنل گارڈ کی 20 سالہ سارہ بیکسٹرم ہلاک ہو گئی، جبکہ 24 سالہ اینڈریو وولف نازک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ملزم 29 سالہ رحمن اللہ لاکانوال ہے جو افغانستان کا شہری ہے اور 2021 میں امریکہ آیا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف نے ملزم کے خلاف first-degree murder کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملزم ابھی بھی critical condition میں پولیس کی حراست میں ہے۔

اس خبر کوبھی پڑھیئے: “تیسری دنیا کے ممالک” سے ہجرت کو “مستقل طور پر روکنے” کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو “terrorist attack” قرار دیا اور بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کی کہ افغان شہریوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی گئی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ “غربت زدہ ممالک سے migration permanently pause” کرنا چاہتے ہیں اور لاکھوں immigrants کو ملک سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاکانوال نے asylum کے لیے درخواست بائیڈن دور میں دی تھی، لیکن اس کی منظوری ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ہوئی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *