ہاؤسنگ واؤچر پروگرام میں غیر معمولی تاخیر

شیلٹر سسٹم میں عملے کی تبدیلی کی وجہ سے اکثر درخواست کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔

Editor News

نیویارک: نیویارک سٹی میں بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے جاری ‘سٹی فہپس’ (CityFHEPS) ہاؤسنگ واؤچر پروگرام میں شدید سست روی اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث متاثرین اور رئیل اسٹیٹ ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سنیسائیڈ (Sunnyside) میں گزشتہ 20 سالوں سے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے رابرٹ سویڈرسکی نے بتایا کہ اپارٹمنٹس کے معائنے (Inspection) کے لیے اب تین تین ماہ تک کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “انتظامی زنجیر کی ہر کڑی الگ الگ کام کر رہی ہے اور کسی کو علم نہیں کہ دوسرے مرحلے پر کیا ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں مکانات کی دستیابی کی شرح (Vacancy Rate) بھی تاریخی طور پر کم ہے۔”

‘کولیشن فار دی ہوم لیس’ (Coalition For The Homeless) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیو گفن نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر مرحلے پر تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ:

شیلٹر سسٹم میں عملے کی تبدیلی کی وجہ سے اکثر درخواست کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔

جب کوئی درخواست گزار اپنی درخواست جمع کراتا ہے، تو شیلٹر انتظامیہ کی جانب سے کارروائی شروع کرنے میں کئی ماہ گزر جاتے ہیں۔

دوسری جانب، نیویارک سٹی کے محکمہ سماجی خدمات (DSS) نے وسیع پیمانے پر بیک لاگ یا تاخیر کے دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ:مالی سال 2025 میں ریکارڈ تعداد میں بے گھر نیویارکرز کو مستقل گھر فراہم کیے گئے ہیں۔

‘سٹی فہپس’ ملک کا دوسرا سب سے بڑا کرایہ امدادی پروگرام بن چکا ہے، جس سے 1 لاکھ 36 ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ان کیسز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جہاں کرایہ داروں کو شیلٹر سے نکلنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

محکمے نے مزید کہا کہ باریک بینی سے جانچ پڑتال کے عمل کی بدولت مالی سال 2025 میں شیلٹرز میں واپس آنے والے افراد کی شرح بھی کم ترین سطح پر رہی ہے۔ تاہم، وکلاء اور ایجنٹس کا اصرار ہے کہ بیوروکریسی کی سست روی ان لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے جو پہلے ہی مشکل حالات کا شکار ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *