جنیوا: اقوامِ متحدہ کے آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سوڈان کے صوبہ دارفور کے شہر الفاشر (El-Fasher) پر پیرا ملٹری گروپ ‘ریپڈ سپورٹ فورسز’ (RSF) کا قبضہ اور وہاں ہونے والے مظالم “نسل کشی” (Genocide) کی تمام علامات رکھتے ہیں۔
تحقیقاتی مشن کے مطابق اکتوبر میں شہر پر قبضے کے دوران تین دن تک “خوف و ہراس” کا راج رہا۔ رپورٹ میں درج ذیل اہم نکات بیان کیے گئے ہیں:
مشن کے چیئرمین محمد چاندے عثمان کا کہنا ہے کہ یہ جرائم جنگ کی بے راہ روی نہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند آپریشن کا حصہ تھے۔
خاص طور پر غیر عرب نسلی گروہ ‘زغاوہ’ (Zaghawa) کے ہزاروں افراد کو قتل، ریپ اور لاپتہ کیا گیا۔ 7 سے 70 سال تک کی خواتین اور بچیوں، بشمول حاملہ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ انہیں ان کے رشتہ داروں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
اپریل 2023 سے جاری اس خانہ جنگی نے سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے. اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
11 ملین (ایک کروڑ 10 لاکھ) سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
مشن نے 320 گواہوں اور متاثرین کے انٹرویوز کیے اور 25 ویڈیوز کی تصدیق کی، جن میں سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ الفاشر کے بعد اب پڑوسی ریاست کردوفان (Kordofan) میں شہریوں کو فوری تحفظ کی ضرورت ہے، جہاں نسلی قتلِ عام، جنسی تشدد اور جبری حراست کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ زغاوہ قبیلے کے خلاف تشدد نے پڑوسی ملک چاڈ میں بھی تناؤ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ چاڈ کے صدر کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔
اقوامِ متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو عالمی کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
