جنیوا/نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت سے مہلک “نیپاہ وائرس” کے دیگر ممالک میں پھیلنے کا خطرہ فی الحال “کم” ہے۔ عالمی ادارے نے واضح کیا کہ بھارت میں دو کیسز سامنے آنے کے بعد فی الحال سفر یا تجارت پر کسی قسم کی پابندیوں کی سفارش نہیں کی جاتی۔
بھارت میں کیسز کی تصدیق کے بعد پاکستان، ہانگ کانگ، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام سمیت کئی ایشیائی ممالک نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ہوائی اڈوں پر اسکریننگ سخت کر دی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد وائرس کی ممکنہ منتقلی کو بروقت روکنا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھیجی گئی ایک ای میل میں عالمی ادارہ صحت نے کہا:
“ڈبلیو ایچ او ان دو کیسز سے انفیکشن کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو کم سمجھتا ہے۔ بھارت ایسی وبائی صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔”
ادارے نے مزید بتایا کہ ابھی تک انسان سے انسان میں وائرس کی منتقلی کے بڑھتے ہوئے شواہد نہیں ملے، تاہم چمگادڑوں کی آبادی کے باعث وائرس کے خطرے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
نیپاہ وائرس کیا ہے؟
یہ وائرس پھل خور چمگادڑوں (Fruit Bats) اور خنزیر جیسے جانوروں سے پھیلتا ہے۔
اس سے شدید بخار اور دماغ میں سوزش (Brain Inflammation) ہو سکتی ہے۔
اس وائرس کی ہلاکت خیزی کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے، جو اسے انتہائی خطرناک بناتی ہے۔
فی الحال اس کا کوئی مستند علاج یا ویکسین دستیاب نہیں، تاہم تجرباتی ویکسینز پر کام جاری ہے۔
بھارت میں وائرس کی صورتحال
حالیہ کیسز بھارتی ریاست مغربی بنگال میں رپورٹ ہوئے ہیں جہاں دسمبر کے آخر میں دو طبی عملے کے ارکان متاثر ہوئے۔ یہ بھارت میں نیپاہ وائرس کی ساتویں اور مغربی بنگال میں تیسری دستاویزی لہر ہے۔ اس سے قبل ریاست کیرالہ میں بھی 2018 سے اب تک کئی ہلاکت خیز لہریں آ چکی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ وائرس بہت خطرناک ہے، لیکن یہ عام طور پر متاثرہ شخص کے ساتھ طویل اور قریبی رابطے کے بغیر نہیں پھیلتا، اسی لیے عام آبادی کے لیے خطرہ ابھی محدود ہے۔
