سوڈانی فوج (SAF) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اپریل 2023 سے جاری خونریز لڑائی نے اب تیل سے مالامال خطے کوردوفان کے تینوں صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
گزشتہ ماہ شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر RSF کے قبضے کے بعد، جہاں ایک سالہ محاصرے کے دوران بڑے پیمانے پر قتل و غارت، جنسی تشدد، تشدد اور دیگر سنگین جرائم رونما ہوئے، جھڑپوں کا رخ تیزی سے کوردوفان کی جانب ہو گیا ہے۔
تاریخ خوفناک حد تک دوبارہ دہرائی جا رہی ہے
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ولکر ترک نے عالمی برادری اور بااثر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ رکوانے اور اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے اقدام کریں۔
انہوں نے کہا،
“الفاشر کے ہولناک واقعات کے فوراً بعد کوردوفان میں تاریخ کا یوں دوبارہ دہرایا جانا انتہائی تشویشناک ہے… ہمیں کوردوفان کو دوسرا الفاشر نہیں بننے دینا چاہیے۔”
ہلاکت خیز فضائی حملے اور انتقامی کارروائیاں
25 اکتوبر کو RSF نے شمالی کوردوفان کے شہر بارا پر قبضہ کرلیا۔
اس کے بعد سے اقوام متحدہ کے مطابق فضائی حملوں، گولہ باری اور موقع پر ہی پھانسیوں کے باعث کم از کم 269 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم بند ہیں۔
علاقے میں انتقامی قتل، بلا جواز گرفتاریاں، اغوا، جنسی تشدد اور بچوں کی جبری بھرتی کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بہت سے شہریوں پر مخالف گروہوں سے “تعاون” کا الزام لگاکر حراست میں رکھا گیا ہے۔
تشدد کے باعث 45 ہزار سے زائد افراد علاقے کے اندر یا باہر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
انسانی امداد شدید متاثر
سوڈان میں امدادی اداروں نے مشترکہ بیان میں کوردوفان میں بڑھتی ہوئی خونریزی اور جاری محاصروں کی مذمت کی ہے، جن کی وجہ سے کئی شہروں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
بیان کے مطابق:“تشدد کے باعث خوراک، ادویات اور ضروری سامان تک رسائی محدود ہو گئی ہے، جبکہ کاشتکار کھیتوں اور منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے، جس سے کوردوفان میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔”
RSF کے ڈرون حملے میں 3 نومبر کو شمالی کوردوفان میں 45 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ SAF کے ایک فضائی حملے میں 29 نومبر کو جنوبی کوردوفان میں 48 شہری مارے گئے۔
قادُقلی اور دِلّنگ خطرے میں
ترک نے خبردار کیا کہ جنوبی کوردوفان کے شہر قادُقلی اور دِلّنگ شدید خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ RSF اور اس کے اتحادی گروہ SPLM-N نے انہیں محاصرے میں لے رکھا ہے۔
امدادی اداروں کے مطابق شہری سخت مشکلات، نقل و حرکت پر پابندی اور بنیادی خدمات کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ قادُقلی میں قحط کی علامات واضح ہو چکی ہیں، جبکہ مغربی کوردوفان کے علاقے بابانوسہ میں بھی مسلسل حملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ہائی کمشنر ترک نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا:“یہ ایک اور انسان ساز تباہی ہے… کیا ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا؟ ہم مزید سوڈانیوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار نہیں ہونے دے سکتے۔ جنگ فوراً رکنی چاہیے۔”
سوڈان کا موجودہ تنازعہ دنیا کے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں 3 کروڑ افراد امداد کے محتاج ہیں۔ اس کے باوجود امدادی ٹیمیں شدید خطرات کے باوجود کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور صرف کوردوفان میں ہی 11 لاکھ افراد تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔
۔
