نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت (WHO) کے زیرِ اہتمام بدھ کے روز روایتی ادویات اور طریقہ علاج پر ایک بڑی عالمی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صدیوں پرانے علاج معالجے کے طریقوں کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنا اور انہیں جدید طبی نظام کا حصہ بنانا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کانفرنس کے حوالے سے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا:
“روایتی طب ماضی کا قصہ نہیں ہے۔ دنیا بھر کے ممالک، معاشروں اور ثقافتوں میں روایتی ادویات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔”
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سربراہی اجلاس روایتی طب کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں تیزی لائے گا۔ واضح رہے کہ مودی یوگا اور روایتی صحت کے طریقوں کے پرجوش حامی رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے گلوبل سینٹر فار ٹرڈیشنل میڈیسن کی سربراہ شیاما کرولا نے بتایا کہ دنیا کی 40 سے 90 فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں روایتی علاج پر بھروسہ کرتی ہے۔
چونکہ دنیا کی آدھی آبادی کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں، اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے روایتی طب ہی واحد دستیاب علاج ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مغربی ایلوپیتھک ادویات کا 40 فیصد حصہ قدرتی اجزاء سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کی مثالیں اسپرین (بید کے درخت کی چھال) اور ملیریا کی دوا (آرٹیمیسینین) ہیں۔
اگرچہ روایتی ادویات کا استعمال عام ہے، لیکن ماہرین نے چند اہم خدشات کا اظہار بھی کیا ہےسائنسی ثبوت کی کمی: بہت سے روایتی طریقوں کا ابھی تک سائنسی طور پر مؤثر ہونا ثابت نہیں ہوا۔
بعض ادویات کی طلب کی وجہ سے ٹائیگر، گینڈے اور پینگولن جیسے نایاب جانوروں کی غیر قانونی تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔کانفرنس کے دوران عالمی ادارہ صحت نے تحقیق کے ایک نئے دور کا اعلان کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے 16 لاکھ سائنسی ریکارڈز پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ذخیرہ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ علم کی منتقلی اور تحقیق کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے قدیم نسخوں کی سائنسی توثیق کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو گیا ہے۔
یہ کانفرنس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ اگر روایتی ادویات کو سائنسی بنیادوں پر منظم کیا جائے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، تو یہ عالمی صحت کے نظام میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔
