نیو یارک:نورو وائرس ایک نہایت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو معدے کی بیماری کا باعث بنتا ہے، جس میں قے اور دست شامل ہیں۔ اسے گیسٹرونٹرائٹس یا عام طور پر “اسٹمک فلو” بھی کہا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا فلو (انفلوئنزا) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نورو وائرس متاثرہ افراد کے قریب جانے، آلودہ کھانے پینے کی اشیا استعمال کرنے یا آلودہ چیزوں اور سطحوں کو چھونے سے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق وائرس سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کی صفائی، سطحوں کی جراثیم کش صفائی، بیماری کے دوران گھر پر رہنا اور کھانے کی اشیا کو درست طریقے سے سنبھالنا ضروری ہے۔
کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن اور نیم گرم پانی سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
خاص طور پر باتھ روم کے استعمال کے بعد، بچے کا ڈائپر تبدیل کرنے کے بعد، کھانا بنانے یا کھانے سے پہلے۔
الکحل بیس ہینڈ سینیٹائزر نورو وائرس کے خلاف مؤثر نہیں، اس لیے ہاتھ دھونا ہی بہترین طریقہ ہے
اگر قے یا دست کی شکایت ہو تو علامات ختم ہونے کے بعد بھی 48 گھنٹے تک گھر میں رہیں تاکہ دوسروں کو وائرس نہ لگے۔
نورو وائرس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم زیادہ تر مریض خود ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
قے اور دست کو کم کرنے کی ادویات لی جاسکتی ہیں۔
جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور محلول پئیں۔
اگر جلد، منہ یا آنکھیں خشک ہونے لگیں تو فوراً ڈاکٹر یا اسپتال سے رجوع کریں، کیونکہ یہ ڈی ہائیڈریشن کی علامت ہے۔
ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ تھوڑی سی لاپرواہی بھی وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاطی اقدامات کو سنجیدگی سے اپنایا جائے۔
